کراچی میں فلیٹ سے ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی لاشیں برآمد
پولیس کے مطابق لاشیں ڈاکٹر عمر، اسکی اہلیہ اور 3 بیٹیوں کی ہیں، لاشیں ایک ہی کمرے سے ملی ہیں۔ ڈاکٹر عمر ایسٹ سٹی اسپتال میں ملازمت کرتے تھے اور ایک ہفتے کی چھٹی پر تھے۔ واقعے کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور کرائم سین یونٹ کو طلب کیا گیا۔
ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ گزشتہ ماہ کی 13 تاریخ کو ڈاکٹر عمر کو کڈنی میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی جس کی وجہ سے وہ بہت پریشان تھے اور اسی وجہ سے اسپتال سے استعفیٰ دیا تھا۔
پولیس کے مطابق گھر اندر سے لاک تھا، گھر کی مکمل تلاشی لی گئی لیکن گھر سے موبائل فون نہیں ملا، پولیس فلیٹ کے تمام دروازے توڑ کر داخل ہوئی اور چابی ڈاکٹر عمر کے سرہانے سے ملی۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق ڈاکٹر عمر کی اہلیہ نے گزشتہ ہفتہ اپنے گھر کا اوون 10 ہزار روپے میں فروخت کرنے کی کوشش کی لیکن پڑوسی نے اوون نہیں خریدا اور 2ہزار روپے کی مدد کر دی، ڈاکٹر عمر کا آبائی تعلق بہاول نگر سے تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی دارالحکومت کے اسپتالوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا
ایس ایس پی ایسٹ زبیر نظیر شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 15 پر پڑوسیوں نے اطلاع دی، پولیس نے آکر فلیٹ کا دروازہ توڑا اور اندر داخل ہوئے جہاں میاں بیوی اور تین بچوں کی لاشیں ایک ہی کمرے میں موجود تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عمر کا ایک بھائی پنجاب میں رہائش پذیر ہے جو لاتعلقی کا اظہار کر رہا ہے، تینوں بچوں کی عمر 10 سال سے کم ہے۔
ایس ایس پی ایسٹ کا کہنا تھا کہ کرائم سین یونٹ موقع سے شواہد اکھٹے کر رہا ہے، کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا اور پوسٹ مارٹم کے بعد وجہ موت سامنے آسکے گی، لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کی جا رہی ہیں تاکہ وجہ موت کا تعین ہو سکے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے واقعے پر تفصیلات طلب کرتے ہوئے ایس ایس پی ایسٹ کو ہدایت کی کہ ابتدائی پولیس کارروائی اور ایکشن سے فی الفور آگاہ کریں۔ واقعے کی تفتیش و تحقیق سے حتمی نتائج کو سامنے لایا جائے۔
وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی فلیٹ سے کئی روز پرانی لاشیں ملنے کا نوٹس لیتے ہوئے پانچ افراد کی ہلاکت پر اظہارِ افسوس کیا اور آئی جی پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔