تحریک تحفظ آئین پاکستان کا 27 ستمبر کا احتجاج ملک بھر میں پھیلانے کا فیصلہ
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کا اہم اجلاس اتحاد کے سربراہ اور قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کی زیرصدارت منعقد ہوا، جس میں ملکی سیاسی صورتحال، مشرق وسطیٰ کے بحران اور پاکستان پر اس کے ممکنہ اثرات سمیت دیگر معاملات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ ناصر عباس، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، اسد قیصر، بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل، زین شاہ، مصطفیٰ نواز کھوکھر، زبیر عمر اور سینیٹر مشتاق احمد سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق شرکاء نے حکومتی معاشی پالیسیوں کے باعث عوام کو درپیش مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور بلوچستان و خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق امور بھی زیرغور آئے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی مارچ، کے پی حکومت کی سرکاری افسران اور وسائل کے استعمال پر پابندی
اعلامیے میں کہا گیا کہ اجلاس میں 27 ستمبر کے احتجاج کو مؤثر بنانے کے لیے مشترکہ سیاسی، میڈیا اور عوامی رابطہ حکمت عملی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ تمام جمہوری جماعتوں سے رابطے تیز کرنے اور آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد پر بھی اتفاق کیا گیا۔
تحریک کے شرکا نے پرامن احتجاج کو عوام اور سیاسی جماعتوں کا آئینی حق قرار دیتے ہوئے 27 ستمبر کے احتجاج کو تحریک کا نکتہ آغاز قرار دیا اور اسے ملک کے کونے کونے تک پھیلانے کے عزم کا اظہار کیا۔ احتجاج کے بنیادی ایجنڈے میں مہنگائی، بے روزگاری، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اور امن و امان کی صورتحال شامل ہوں گی۔
اعلامیے میں بانی پی ٹی آئی کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے بانی پی ٹی آئی، ان کی اہلیہ اور دیگر اسیران کی صحت اور ملاقاتوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے براہ راست ملاقاتوں کا مطالبہ کیا۔
اجلاس میں تمام جبری گمشدہ افراد کی فوری بازیابی، ٹارگٹ کلنگ، مبینہ جعلی مقابلوں، ماورائے عدالت قتل اور ڈیتھ سکواڈز کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ اس کے علاوہ پی ٹی آئی کارکنوں کے گھروں پر چھاپوں، گرفتاریوں اور چادر و چار دیواری کے تقدس کی مبینہ پامالی کی مذمت کی گئی۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے دورہ پنجاب کے دوران مبینہ رویے کو غیرجمہوری قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی گئی، جبکہ کوہاٹ دھماکے کی بھی شدید مذمت کی گئی۔
اعلامیے میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمان کے آئینی کردار کے تحفظ پر زور دیا گیا۔ شرکا نے ایمان مزاری کی رہائی کے بعد دوبارہ گرفتاری کی بھی مذمت کی۔