وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا مسلم لیگ (ن) کو سیاسی چیلنج
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں سہیل آفریدی نے کہا کہ دونوں جماعتوں کو مکمل اور یکساں سیاسی میدان فراہم کیا جائے، اگر ن لیگ کا جلسہ عوامی شرکت کے لحاظ سے پی ٹی آئی کے جلسے سے بڑا ثابت ہوا تو وہ سیاست چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کا جلسہ بڑا ہوا تو مسلم لیگ ن کو پنجاب کے عوام کے سامنے اپنے عوامی مینڈیٹ، سیاسی کارکنوں پر مبینہ ظلم و تشدد، طرز حکمرانی اور کارکردگی سے متعلق سوالات کا جواب دینا ہوگا اورعوام سے معذرت کرنے کے ساتھ اپنی سیاسی حکمت عملی اور قیادت پر بھی نظرثانی کرنا ہوگی۔
میں ساری نون لیگ کو ایک کھلا سیاسی چیلنج دیتا ہوں۔
— Sohail Afridi (@SohailAfridiISF) September 17, 2026
پنجاب کے کسی بھی شہر کا انتخاب نون لیگ خود کرے، جبکہ تحریک انصاف کے لیے بھی وہ اپنی مرضی کا کوئی بھی شہر منتخب کر لے۔ دن، تاریخ اور وقت بھی نون لیگ خود طے کرے۔ شرط صرف یہ ہے کہ دونوں جماعتوں کو مکمل اور یکساں لیول پلیئنگ فیلڈ دی…
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ اگر مسلم لیگ ن کو اپنی حکومت کی کارکردگی اور پنجاب کے عوام میں مقبولیت پر اعتماد ہے تو اسے یہ چیلنج قبول کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کی جانب سے کفایت شعاری مہم کا آغاز، اوقات کار مقرر
وزیر اعلیٰ کے پی نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے لیے سب سے بڑا سیاسی امتحان مریم نواز کی حکومت کی کارکردگی ہے، ان کے بقول اگر ن لیگ کو اپنی حکومت کی کارکردگی اور عوامی مقبولیت پر اعتماد ہے تو سیاسی میدان میں آکر عوام کی طاقت سے فیصلہ ہونے دیا جائے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ فیصلہ دعوؤں، سرکاری اعداد و شمار یا میڈیا بیانات سے نہیں بلکہ جلسوں میں عوام کی شرکت اور عوامی ردعمل سے ہونا چاہیے۔ چیلنج واضح طور پر سامنے رکھ دیا ہے اور اب پنجاب کے عوام فیصلہ کریں گے۔
سہیل آفریدی نے اپنے بیان میں 8 فروری کے عام انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پنجاب کے عوام نے اس موقع پر پی ٹی آئی کو دو تہائی اکثریت دی تھی۔