آسٹریلیا میں غیر ملکی طلبہ کے لیے امیگریشن قوانین سخت، پاکستانی طلبہ بھی متاثر ہونے کا امکان
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلوی حکومت امیگریشن نظام میں اصلاحات کے تحت ویزا کی مدت سے متعلق قوانین بھی مزید سخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، تاکہ ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد تارکینِ وطن کے قیام کو کنٹرول کیا جا سکے۔
مجوزہ پابندیوں کے نتیجے میں آسٹریلیا میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند پاکستانی طلبہ کو اپنے اہلِ خانہ کو ساتھ لے جانے کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم پاکستانی طلبہ پر ان تبدیلیوں کے مخصوص اطلاق اور ممکنہ استثنیٰ سے متعلق تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی اور سی سی ٹی وی کیمروں سے بچانے والی شرٹ تیار
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امیگریشن قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے 100 اضافی اہلکار بھرتی کرنے کا بھی منصوبہ ہے،اس کے علاوہ آسٹریلوی حکومت قرنطینہ مرکز کو امیگریشن حراستی مرکز کے طور پر استعمال کرنے کی تجویز پر بھی غور کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے یہ اقدامات امیگریشن نظام میں اصلاحات اور بیرونِ ملک سے آنے والے افراد کی تعداد کو محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔