سمارٹ لاک ڈاؤن پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا، طارق فضل چودھری
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چودھری نے کہا کہ ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں تین ماہ کے لیے تھری ویلر اور 800 سی سی گاڑیوں کو ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام عوامی نمائندوں کی ڈیوٹیاں لگائی جا رہی ہیں تاکہ وہ عوام کی رہنمائی کریں اور انہیں حکومتی اقدامات سے آگاہ کریں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد بند نہیں ہونے جا رہا، تاہم ستمبر میں تین مارچ ہونے جا رہے ہیں۔ ان کے بقول پی ٹی آئی کا مارچ سب سے زیادہ پرتشدد اور انتشار سے بھرپور ہوتا ہے۔
طارق فضل چودھری نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے کے تحت انتظامیہ کو ہدایات ہیں کہ شہریوں کی آمدورفت بحال رکھی جائے اور کسی بھی سیاسی جماعت کے رہنماؤں کو عوامی مقامات پر قبضہ کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اپنی ذمہ داری پوری کر رہی ہے، سوچنا ان لوگوں کو چاہیے جو بار بار اسلام آباد پر چڑھائی کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ سیاسی جماعتیں مارچ کا نام پرامن رکھتی ہیں لیکن بعد میں پرتشدد مظاہرے کرتی ہیں۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ وہ نظام تبدیل کرنے آ رہے ہیں تو کیا ان کی آمد سے نظام تبدیل ہوجائے گا؟