سہیل آفریدی کی گرفتاری پر پی ٹی آئی کا شدید ردعمل
تفصیلات کے مطابق اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے پارلیمانی اجلاس گزشتہ رات 11 بجے طلب کیا جس میں پارلیمانی پارٹی کے رہنما شریک ہوئے۔
اجلاس میں لاہور کے علاقے لکشمی چوک پر وزیراعلیٰ کو پولیس موبائل میں بیٹھا کر لے جانے کے واقعے کو افسوسناک قرار دیا گیا اور اس پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ تحریک انصاف نے تمام ارکان اسمبلی کو خیبرپختونخوا اسمبلی طلب کرلیا جس کا فیصلہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کوئی شخص نہیں صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں، پنجاب پولیس کے اس رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، تمام ارکان اسمبلی جمع ہوں گے آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس مین فیصلہ کیا گیا ہے کہ سہیل آفریدی پنجاب میں سٹریٹ موومنٹ جاری رکھیں گے جبکہ کہا گیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ساتھ پورے صوبے کے چیف ایگزیکٹو اور عوام کی توہین کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب پولیس نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی گرفتاری کی تردید
اسد قیصر نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنے شہید کارکن کی فاتحہ خوانی کے لیے لاہور گئے تھے، آئین کے مطابق عام شہری کو سیاسی سرگرمی اور آزادانہ نقل و حرکت کا حق حاصل ہے اور تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام نے پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں بانی پی ٹی آئی اور پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا، کارکن کی گرفتاری پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے کارکن کا ساتھ دیا، ایس ایچ او کی کیا مجال کہ وہ وزیراعلیٰ پر ہاتھ ڈالے یا انہیں گاڑی میں بیٹھائے۔
اسد قیصر کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جرات اور بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں، جو ملک میں جمہوری جدوجہد کی ایک مثال بن رہے ہیں، پنجاب پولیس اسٹیٹ بن چکا ہے، پوری دنیا کے سامنے اس کی حقیقت آگئی۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہم پرامن لوگ ہیں اور جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں، سہیل آفریدی کو پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے دورے سے کوئی قانون یا حکومت نہیں روک سکتی جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پنجاب کے مختلف شہروں کا دورہ کرکے اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔