پنجاب پولیس نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی گرفتاری کی تردید
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پخنونخوا کو پولیس کے زیر حراست رکھنے کا تاثر حقائق کے منافی ہے، وہ خود اپنی مرضی سے پولیس وین میں چڑھ گئے اور ان کی سکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس وین آگے بڑھی۔
لاہور پولیس سربراہ نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے لیے سکیورٹی کی بھرپور انتظامات عمل میں لائے جا رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو حراست میں لیے جانے سے متعلق ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سہیل آفریدی کارکنان اور اپنی سکیورٹی کے ہمراہ موجود ہیں۔ اور وہ خود جا کر پولیس وین میں بیٹھ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کے 24 ارکان اسمبلی کے پاسپورٹ بلاک
ویڈیو میں دیکھا اور سنا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار سہیل آفریدی کو پولیس وین سے باہر آنے کی درخواست کر رہا ہے لیکن وہ وین سے باہر آنے سے انکاری ہیں۔ جبکہ تھوڑی دیر بعد ڈرائیور گاڑی کو لے کر آگے کی طرف بڑھ گیا۔ پولیس وین میں سہپل آفریدی کے ساتھ کوئی پولیس اہلکار نظر نہیں آ رہا
🚨Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister Sohail Afridi has been arrested amid heightened political tensions during his visit to Punjab. pic.twitter.com/RGBFFlqIIM
— Murtaza Ali Shah (@MurtazaViews) September 14, 2026
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اپنے بیان میں کہا کہ مجھے اغوا کرنے کی کوشش کی گئی، جس پر پنجاب حکومت کو شرم آنی چاہیے۔ مجھے یہاں سڑک پر لاکر چھوڑا گیا ہے اور اگر مجھے پنجاب میں کچھ بھی ہوا تو اس کی ذمہ دار حکومت اور پنجاب پولیس ہو گی۔
🚨“Police tried to abduct me and then dumped me on the roadside,” says KP CM Sohail Afridi. pic.twitter.com/0YZEpj0LKF
— Ihtisham Ul Haq (@iihtishamm) September 14, 2026
خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ اگر پولیس نے گرفتار نہیں کیا تو سہیل آفریدی یہاں کیسے آئے، ان کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اور ہمارے لوگ جب ان کے پبچھے گئے تو ان پر دباؤ بنا اور ہمارے کارکنان کو دیکھ کر وزیر اعلیٰ کو گاڑی سے اتارا گیا۔
ایک اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پنجاب پولیس کی وین میں سہیل آفریدی ان کے ایک کارکن اور دو گن میں بیٹھے ہوئے ہیں جبکہ کوئی پولیس اہلکار موجود نہیں ہے۔ وین میں موجود کارکن ویڈیو بناتے ہوئے چلا رہے ہیں کہ انہیں اغوا کر لیا گیا ہے۔ جبکہ سہیل آفریدی مسکرا رہے ہیں۔
وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ایک اور ڈرامہ بازی ملاحظہ کریں، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی خود جا کر پولیس وین میں بیٹھے جبکہ پولیس والے انہیں اترنے کا کہتے رہے۔ جبکہ اپنے گارڈز کو ڈرامہ بلاک کرنے پر جھاڑ کر پرے کر دیا۔