سینئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر محمود بشیر ورک انتقال کرگئے
محمود بشیر ورک گزشتہ کئی روز سے لاہور کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے جہاں وہ قضائے الٰہی سے انتقال کرگئے۔ ان کی نماز جنازہ کل ان کے آبائی گاؤں کمو ورکاں میں ادا کی جائے گی۔
چوہدری محمود بشیر ورک پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے۔ وہ عام انتخابات میں گوجرانوالہ کے حلقہ این اے 77 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔
محمود بشیر ورک مجموعی طور پر 5 مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ انہوں نے پہلی مرتبہ 1997 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر حلقہ این اے 77 سے کامیابی حاصل کی۔
یہ بھی پڑھیں: 27 ستمبرکا احتجاج مؤخرنہیں ہو گا، بیرسٹر گوہر کا واضح پیغام
2008 کے عام انتخابات میں وہ حلقہ این اے 97 گوجرانوالہ سے دوسری مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے، جبکہ 2013 کے انتخابات میں اسی حلقے سے تیسری مرتبہ کامیابی حاصل کی۔
مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں محمود بشیر ورک جنوری 2018 سے مئی 2018 تک وفاقی وزیر قانون و انصاف بھی رہے۔
2018 کے عام انتخابات میں حلقہ بندیوں کی تبدیلی کے بعد وہ حلقہ این اے 80 گوجرانوالہ سے چوتھی مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
2024 کے عام انتخابات میں محمود بشیر ورک نے حلقہ این اے 77 گوجرانوالہ-I سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی اور ایک لاکھ 6 ہزار سے زائد ووٹ لے کر پانچویں مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔
چوہدری محمود بشیر ورک کا تعلق گوجرانوالہ کے مضافاتی علاقے کے ایک معزز زمیندار گھرانے سے تھا۔ ان کا آبائی گاؤں موضع کمو ورکاں، جو قلعہ کمو ورکاں کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، گوجرانوالہ کی تحصیل نوکھر اور کامونکی کے قریب واقع ہے۔
ان کے والد چوہدری بشیر احمد ورک علاقے کے معروف زمیندار اور سماجی شخصیت تھے۔ محمود بشیر ورک کے انتقال پر سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔