لاہور کے جنرل ہسپتال کے گائنی وارڈ میں آگ لگ گئی
واقعے کے بعد وارڈ میں موجود حاملہ خواتین سمیت تقریباً 70 افراد کو فوری طور پر بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آگ لگنے کے دوران ایک سیکیورٹی گارڈ کی حالت خراب ہوگئی، جسے فوری طور پر لاہور جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی میں منتقل کردیا گیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گارڈ کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ پمز پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس برہم
ایم ایس لاہور جنرل ہسپتال ڈاکٹر فریاد حسین نے کہا کہ ہسپتال کے عملے کو فراہم کی جانے والی فائر سیفٹی ٹریننگ انتہائی مؤثر ثابت ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ تربیت یافتہ عملے نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے فائر ایکسٹنگوشرز کی مدد سے آگ پر قابو پالیا اور اس دوران کسی بیرونی فائر بریگیڈ کی مدد کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
ڈاکٹر فریاد حسین کا کہنا تھا کہ لاہور جنرل ہسپتال کی پوری ٹیم نے باہمی تعاون اور بہترین پیشہ ورانہ انداز میں کام کیا، جس کے نتیجے میں صورتحال پر مکمل طور پر قابو پالیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ الحمدللہ، واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی کسی مریض، حاملہ خاتون یا بچے کو نقصان پہنچا۔