سانحہ پمز پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس برہم
اسلام آباد ہائیکورٹ میں سانحہ پمز سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، جس دوران درخواست گزار کے وکیل قاسم اقبال جلالی نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کی جانب سے قائم کی گئی دونوں انکوائری کمیٹیوں میں بیوروکریٹس شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریٹس اپنے ہی محکمے کے خلاف کس طرح شفاف انکوائری کرسکتے ہیں۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے وکیل سے استفسار کیا کہ عدالت کس قانون کے تحت جوڈیشل انکوائری کی ہدایت دے سکتی ہے؟ انکوائری ایکٹ میں کہاں درج ہے کہ عدالت ایسا حکم جاری کرسکتی ہے؟
درخواست گزار کے وکیل نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے واقعے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر کمیشن مقرر کیا گیا تھا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مذکورہ کمیشن عدالت نے نہیں بنایا تھا بلکہ حکومت نے قائم کیا تھا، اگر اسلام آباد میں کوئی ایسا معاملہ ہوگا تو وہ اسے دیکھنے کیلئے اپنے کسی جج کو کہیں گے۔
سماعت کے دوران وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پیش کی گئی انکوائری رپورٹ میں کسی کی ذمہ داری فکس نہیں کی گئی۔
اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ نے بتایا کہ واقعے کے روز ہی سیکریٹری صحت کو معطل کردیا گیا تھا، جبکہ عبوری رپورٹ کی بنیاد پر پمز کے بعض افسران کو بھی معطل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر محمد ریاض کا استعفیٰ منظور
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ یہ بہت خوفناک واقعہ ہے، 14 بچوں کی جانیں گئی ہیں، اگر کارروائی ہورہی ہے تو کیا عدالت کو حکم دینے سے کوئی پابندی ہے؟ عدالت یہ معلوم کرنا چاہتی ہے کہ اب تک اس معاملے میں کیا پیش رفت ہوئی ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے معاملے پر حکومتی اقدامات اور انکوائری کی پیش رفت سے متعلق تفصیلات جاننے پر بھی زور دیا۔