سعودی عرب میں پاکستانی ملازمین کیلئے بڑی سہولت کا اعلان
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (بی ای او سی) کے مطابق سعودی عرب میں ملازمت کے اختتام پر مراعات کا تعین ملازمت کی مدت اور دیگر قانونی شرائط کے تحت کیا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2 سے 5 سال تک ملازمت کرنے والے ملازم کو ہر سال ایک تہائی ماہ کی تنخواہ کے برابر مراعات دی جاتی ہیں جبکہ 5 سے 10 سال کی سروس پر ہر سال دو تہائی ماہ کی تنخواہ کے برابر رقم ملتی ہے۔
اس طرح پہلے 5 سال تک سروس کے لیے ہر سال نصف ماہ کی تنخواہ کے برابر مراعات جبکہ اس کے بعد ہر سال ایک مکمل ماہ کی تنخواہ ماہ کی تنخواہ کے برابر مراعات کا حق حاصل ہوتا ہے۔
بیورو آف امیگریشن کے مطابق اگر کسی ملازم کو آجر یا کفیل کی جانب سے غلط کاروائی کے باعث ملازمت سے نکالا جائے تو قانون کے مطابق اسے مکمل مراعات دی جائیں گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں ملازمت کا معاہدہ مدت مکمل ہونے سمیت دیگر قانونی حالات میں ختم کیا جا سکتا ہے۔ کاروباری سرگرمی مستقل طور پر بند ہونے کی صورت میں بھی معاہدہ ختم ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مکہ دفاعی معاہدے کی کمیٹی کا پہلا اجلاس کل استنبول میں ہوگا
رپورٹ کے مطابق دھوکہ دہی، جسمانی حملہ، کاروباری راز افشا کرنا یا مسلسل فرائض انجام دینے سے انکار جیسی انضباطی وجوہات کی صورت میں بھی ملازمت ختم کی جاسکتی ہے۔
پی ای او ای نے واضح کیا کہ سعودی عرب میں غیر ملکی ملازمین کے حقوق اور ملازمت سے متعلق قوانین موجود ہیں جبکہ بعض حالات میں آجر کی جانب سے تنخواہ کی عدم ادائیگی یا معاہدے کی خلاف ورزی پر ملازم کو ملازمت چھوڑنے کا قانونی حق بھی حاصل ہوسکتا ہے۔