اسلام آباد ہائیکورٹ نے تین قیدیوں کی نجی ہسپتال میں علاج کی درخواستیں مسترد کر دیں
جسٹس محمد آصف نے قیدی محمد اسماعیل کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے اڈیالہ جیل کے قیدیوں کی جانب سے دائر دونوں درخواستیں خارج کردیں، جن میں نجی اسپتال میں علاج، میڈیکل بورڈ کی تشکیل اور بیرون ملک اہلخانہ سے ٹیلی فونک رابطے کی سہولت فراہم کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔
عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار 2 اگست کے آفس آرڈر کو غیر قانونی ثابت کرنے اور اپنے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ قیدی کو اپنی مرضی کے نجی اسپتال منتقل ہونے کا بطورِ حق کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں۔ قید کا مطلب آزادی پر قانون کے مطابق پابندیاں ہیں اور ہر تکنیکی سہولت کو بنیادی حق قرار نہیں دیا جاسکتا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ قیدیوں کے علاج معالجے کی بنیادی ذمہ داری ریاست اور سرکاری اسپتالوں کے انتظامی ڈھانچے پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم اگر سرکاری اسپتال میں مطلوبہ علاج دستیاب نہ ہو تو میڈیکل بورڈ کی سفارش پر نجی اسپتال میں علاج کی سہولت کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔
عدالت نے جیل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ قیدیوں کو پاکستان پریزن رولز 1978 کے مطابق تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان ہسپتال منتقلی، توہینِ عدالت پر فوری سماعت کی درخواست مسترد
بیرون ملک اہلخانہ سے ٹیلی فون پر گفتگو کے معاملے پر عدالت نے قرار دیا کہ اگر قانون کے تحت قیدیوں کے لیے واٹس ایپ، ویڈیو کال یا رابطے کا کوئی اور ذریعہ دستیاب ہو تو حکام درخواست پر غور کرسکتے ہیں، تاہم یہ سہولت جیل کے نظم و ضبط، سیکیورٹی تقاضوں اور متعلقہ جیل قوانین کے مطابق ہوگی۔
دوران سماعت عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے کا حوالہ بھی دیا گیا، اس حوالے سے عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کا ہائیکورٹس پر اطلاق ہوتا ہے، تاہم 18 اگست کی سپریم کورٹ کی ہدایات عبوری نوعیت کی ہیں اور جس مقدمے کا حوالہ دیا گیا وہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے، اس لیے عبوری حکم کو حتمی فیصلہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
عدالت نے واضح کیا کہ کسی قیدی کا علاج نہ ہونے کو میڈیکل بورڈ کی رائے کے بغیر بنیادی حق قرار نہیں دیا جاسکتا، جبکہ جیل قواعد ضرورت پڑنے پر قیدی کو بیرونی اسپتال منتقل کرنے کا طریقہ کار فراہم کرتے ہیں۔