مراد سعید نے احسن اقبال ہرجانہ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا
مراد سعید کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے عائد کی گئی 25 لاکھ روپے ہرجانے کی ڈگری کو کالعدم قرار دیا جائے۔
اپیل میں مزید استدعا کی گئی کہ حتمی فیصلے تک ڈسٹرکٹ کورٹ کے حکم کے خلاف حکمِ امتناع جاری کیا جائے۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ ریکارڈ پر موجود ٹھوس حقائق اور دستیاب شہادتوں کے منافی ہے۔
واضح رہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج اسلام آباد نے 29 جولائی 2026 کو مراد سعید کو احسن اقبال کے حق میں 25 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اب پی ٹی آئی رہنما نے مذکورہ فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔
اپیل میں مراد سعید کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ متعلقہ پریس کانفرنس سرکاری ریکارڈ اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ ان کے مطابق ٹرائل کورٹ نے کیس کی سماعت کے دوران عدالتی گواہان کے بیانات اور ایف آئی اے کی رپورٹ کو مناسب طور پر مدنظر نہیں رکھا۔
مراد سعید نے اپیل میں یہ مؤقف بھی اپنایا کہ احسن اقبال اور ان کے گواہان نے خود اعتراف کیا کہ مبینہ بیان یا پریس کانفرنس کے باعث ان کی ساکھ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
پی ٹی آئی رہنما کے مطابق ٹرائل کورٹ نے بھی اپنے فیصلے میں بدنیتی ثابت نہ ہونے کا اعتراف کیا، تاہم اس کے باوجود ان پر ہرجانہ عائد کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی 5 سالہ آیت نور کے گھر پہنچ گئے
اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ڈسٹرکٹ کورٹ کی جانب سے جاری کی گئی ہرجانے کی ڈگری کو کالعدم قرار دیا جائے اور حتمی فیصلے تک اس پر عملدرآمد روکنے کیلئے حکمِ امتناع جاری کیا جائے۔
اب اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس اپیل کی سماعت کے بعد ہی معاملے میں آئندہ قانونی پیش رفت واضح ہوگی۔