ستمبر کے بلوں میں کتنا اضافہ ہوگا؟
تفصیلات کے مطابق سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹیڈ نے جولائی کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرائی تھی۔ درخواست میں فی یونٹ بجلی کی قیمت میں 2 روپے 52 پیسے اضافے کی استدعا کی گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں بجلی کی اصل فیول لاگت 9 روپے 61 پیسے فی یونٹ رہی، جبکہ ریفرنس فیول لاگت 7 روپے 9 پیسے فی یونٹ مقرر تھی۔ دونوں لاگتوں کے درمیان فرق کی بنیاد پر 2 روپے 52 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی گئی۔
اگر نیپرا کی جانب سے مجوزہ اضافے کی مکمل منظوری دے دی جاتی ہے تو صارفین سے مجموعی طور پر تقریباً 36 ارب 54 کروڑ روپے اضافی وصول کیے جاسکتے ہیں۔
حتمی فیصلے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ ستمبر کے بجلی بلوں میں صارفین سے کتنی اضافی رقم وصول کی جائے گی۔
جولائی کے دوران بجلی کی پیداوار کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا،مہنگے درآمدی ایندھن، بالخصوص RLNG، درآمدی کوئلے اور دیگر ذرائع سے بجلی کی پیداوار نے مجموعی فیول کاسٹ بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
جولائی میں بجلی کی فیول لاگت گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں تقریباً 38 فیصد زیادہ رہی۔ درآمدی کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت تقریباً 16 روپے 33 پیسے فی یونٹ ریکارڈ کی گئی۔
نیپرا کے سامنے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں درآمدی LNG سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت تقریباً 47 روپے 37 پیسے فی یونٹ جبکہ درآمدی کوئلے سے بجلی کی پیداوار کی لاگت 54 روپے 47 پیسے فی یونٹ تک ریکارڈ کی گئی۔
اگر نیپرا نے CPPA-G کی جانب سے مانگا گیا 2 روپے 52 پیسے فی یونٹ اضافہ منظور کرلیا تو اس کا اثر ستمبر کے بجلی بلوں میں سامنے آسکتا ہے۔ تاہم فی الحال یہ اضافہ حتمی نہیں ہے اور صارفین کو اضافی رقم ادا کرنے کا فیصلہ نیپرا کے حتمی فیصلے سے مشروط ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گیس کی لوڈشیڈنگ سے تنگ نانبائیوں کا احتجاج کا اعلان
اس سے قبل نیپرا نے جون 2026 کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بھی 75 پیسے فی یونٹ اضافی وصولی کی منظوری دی تھی، جس کا اطلاق اگست کے بجلی بلوں میں کیا گیا۔