عمران خان کی ہسپتال منتقلی، توہین عدالت کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں درخواست کی سماعت کے لیے 16 ستمبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔
رجسٹرار آفس کے مطابق متعلقہ کیٹیگری میں اس نوعیت کی 94 درخواستیں پہلے سے زیر التوا ہیں، عظمیٰ خان کی توہین عدالت کی درخواست ان میں سب سے آخر پر دائر ہوئی۔
سپریم کورٹ کے جاری کردہ روسٹر کے مطابق 16 ستمبر کو بینچ نمبر پانچ جسٹس شاہد وحید ، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل ہوگا۔
واضح رہے عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ 18 اگست 2026 کو اس وقت اہم قانونی اور سیاسی بحث بن گیا جب سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو طبی معائنے اور علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ عمران خان کو جیل سے ہسپتال منتقل کیا جائے اور ان کے علاج کے لیے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل پینل تشکیل دیا جائے۔
سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد حکومت کی جانب سے اس پر نظرثانی کا فیصلہ کیا گیا۔ حکومتی مؤقف تھا کہ نجی ہسپتال میں زیرِ علاج رکھنے کا عدالتی حکم جیل قوانین اور قواعد سے متعلق سوالات پیدا کرتا ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ سزا یافتہ قیدی کے نجی ہسپتال میں علاج کے حوالے سے جیل قوانین میں واضح گنجائش موجود نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جمائما کا عمران خان کیلئے برطانوی حکومت سے اہم مطالبہ
حکومت کی جانب سے دائر کی گئی پہلی نظرثانی درخواست کو سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے کاغذات نامکمل ہونے کی بنیاد پر واپس کر دیا تھا۔ بعد ازاں حکومتی جانب سے اعتراضات دور کرتے ہوئے نظرثانی درخواست دوبارہ دائر کی گئی، جس میں 18 اگست کے حکم کو واپس لینے یا اس پر نظرثانی کرنے کی استدعا کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے حکم پر نظرثانی درخواست کو نمبر الاٹ
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے حکم پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان کو عدالت کے حکم کے مطابق شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جانا چاہیے اور طبی معائنے کے لیے ان کے ذاتی معالج سمیت متعلقہ ماہرین کو بھی شامل کیا جائے۔ بعد ازاں پارٹی کی جانب سے عدالتی حکم پر عمل نہ ہونے کے معاملے پر توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کی بات بھی سامنے آئی۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے مؤقف کے درمیان اختلاف کے دوران عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے بجائے پمز ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کا طبی معائنہ اور مختلف ٹیسٹ کیے گئے، جس کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ اس پیش رفت نے سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم پر عملدرآمد سے متعلق مزید قانونی سوالات پیدا کیے۔
حکومتی نظرثانی درخواست میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ 18 اگست کا حکم انتظامی اور جیل حکام کے اختیارات پر اثرانداز ہوتا ہے، جبکہ چیف کمشنر اسلام آباد کا کہنا ہے کہ مرکزی مقدمے میں انہیں فریق نہیں بنایا گیا تھا، اس کے باوجود عدالتی حکم سے ان کے اختیارات متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر حکومت نے عدالت سے درخواست کی کہ معاملے کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔