ستھرا پنجاب ملازمین کو ہر ماہ تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنانے کا حکم
وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ستھرا پنجاب کی 151 کمپنیوں میں سے 149 کمپنیوں کے ورکرز کو ادائیگیاں مکمل کر دی گئی ہیں جبکہ روجھان اور چوبارہ میں ورکرز کو ادائیگی نہ کرنے پر متعلقہ کمپنی کے خلاف بھی کارروائی کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے صفائی آپریشن میں کوتاہی اور مبینہ گھپلوں پر سخت ترین قانونی کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ستھرا پنجاب آپریشنز میں کرپشن اور غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، دفتروں میں بیٹھ کر تنخواہیں لینے والے افراد گوارا نہیں، سب کو عملی طور پر کام کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: گڈز ٹرانسپورٹرز کا کرایوں میں 10 فیصد کمی کا اعلان
مریم نواز نے ایم ڈی واسا کو روزانہ کم از کم دو گھنٹے فیلڈ میں گزارنے جبکہ ٹی ایم اوز اور ایف ایم اوز کو روزانہ کم از کم 5 یونین کونسلز کا دورہ کرکے صفائی کی صورتحال کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے ہر ڈویژنل ہیڈکوارٹر میں ستھرا پنجاب اینٹی لٹرنگ اسکواڈ فعال کرنے کا بھی حکم دیا، ای بائیکس پر سوار اسکواڈز سڑکوں، گلی محلوں اور بازاروں میں صفائی اور کچرے کی نگرانی کریں گے تاہم ستھرا پنجاب ورکرز کے لیے مری کی طرز پر گاربیج بیگ ساتھ رکھنا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے شہروں اور دیہات میں اسٹاف اور ورکرز کی غیرحاضری کی رپورٹس کا بھی سخت نوٹس لیا اور صفائی سے متعلق عوامی شکایات فوری حل کرنے کی ہدایت کی۔
انھوں نے مزید کہا کہ ستھرا پنجاب عوام کی سہولت، صفائی اور سوشل سروس کا قابلِ قدر پروگرام ہے، اس کے صفائی آپریشن میں ہر روز بہتری آنی چاہیے، مرکزی سڑکوں پر گندگی سے بھرے ویسٹ انکلیوژرز افسوسناک ہیں اور صفائی کے نظام میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔