انشورنس کلیمز میں تاخیر روکنے کیلئے ایس ای سی پی کا بڑا اقدام
موجودہ قواعد کا اطلاق صرف انفرادی انشورنس پالیسیوں پر ہوگا۔ نئے فریم ورک میں پالیسی کے اجرا سے لے کر کلیم کی ادائیگی تک کمپنیوں کی ذمہ داریاں واضح کی گئی ہیں۔
مجوزہ رولز کے تحت لائف انشورنس کلیم پر متعلقہ دستاویزات مکمل ہونے کے بعد 20 دن میں فیصلہ کرنا ہوگا، موٹر انشورنس کلیم کا فیصلہ سروے رپورٹ ملنے کے بعد 5 دن جبکہ دیگر نان لائف کلیم کا فیصلہ 7 دن میں کرنا لازم ہوگا۔
کلیم منظور ہونے کے بعد انشورنس کمپنی کو 7 دن کے اندر رقم ادا کرنا ہوگی، اسپتال میں داخل مریض کے ہیلتھ انشورنس کلیم کو 20 دن میں نمٹانا ہوگا جبکہ ڈسچارج کی منظوری زیادہ سے زیادہ 3 گھنٹے میں دینا ہوگی۔ کمپنی کی تاخیر کے باعث مریض کو اسپتال سے ڈسچارج ہونے سے نہیں روکا جا سکے گا۔
نئے قواعد میں کمپنیوں کو کلیم کیلئے صرف متعلقہ دستاویزات طلب کرنے کی اجازت ہوگی۔ انہیں منظور شدہ، مسترد اور زیر التوا کلیمز کا ڈیٹا اپنی ویب سائٹس پر بھی فراہم کرنا ہوگا جبکہ ایک سال سے زائد عرصے سے زیر التوا کلیمز کا تناسب بنانا بھی ضروری ہوگا۔
مجوزہ ضوابط کے مطابق نئی انشورنس پالیسی کی درخواست 7 دن میں نمٹانا ہوگی جبکہ لائف انشورنس پالیسی کی دستاویزات زیادہ سے زیادہ 20 دن میں جاری کرنا ہوں گی۔ ڈیجیٹل طریقے سے فروخت ہونے والی پالیسی 3 دن کے اندر جاری کرنا لازم ہوگا۔
موٹر انشورنس میں کمپنی کو گاڑی کی موجودہ مارکیٹ ویلیو سے پالیسی ہولڈر کو آگاہ کرنا ہوگا اور اوور انشورنس یا انڈر انشورنس کے اثرات بھی واضح کرنا ہوں گے۔ منظور شدہ موٹر کلیم کی مرمت عمومی طور پر 15 دن میں مکمل کرنا ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: گڈز ٹرانسپورٹرز کا کرایوں میں 10 فیصد کمی کا اعلان
مجوزہ رولز کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 10 لاکھ روپے تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں روزانہ مزید 10 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
ایس ای سی پی نے مسودے پر عوام اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے 30 دن میں تجاویز اور اعتراضات طلب کر لیے ہیں، مشاورت مکمل ہونے کے بعد قواعد منظوری کیلئے ایس ای سی پی پالیسی بورڈ کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔