آزاد کشمیر کا ماحول ہم سب کیلئے باعث پریشانی ہے، صدر مسلم لیگ ن
مری میں ن لیگ آزادکشمیر کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ اب عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی گنجائش نہیں ہے، اگر ہم نے آزاد کشمیر میں ڈیلیور نہ کیا تو لوگ ناراض ہوں گے، ماضی میں آزادکشمیر کی حکومت عوامی امنگوں پر پوری نہ اتر سکی۔آزادکشمیر کے عوام کی فلاح و بہبود ترجیح ہے، آزادکشمیر کے عوام پنجاب کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
صدر ن لیگ کا کہنا تھا کہ آزادکشمیرکا الیکشن جیتنے والوں کو مبارک باد پیش کرتاہوں، جو الیکشن نہیں جیت سکے ان کو بھی شاباش دیتا ہوں، آپ نے مخالفین کی مہم کا بھرپورمقابلہ کیا، کچھ شکایات ہم تک پہنچیں جس کا مجھے افسوس ہوا، ریاست میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی، امید نہیں تھی کہ پیپلزپارٹی کی طرف سے کوئی شکایت کا موقع ملےگا، آزاد کشمیرمیں پیپلزپارٹی کا وزیراعظم تھا، ہم نے ہمیشہ مخالفین کے ساتھ اچھا سلوک کیا ہے، سیاسی مخالفت کو دشمنی میں نہیں بدلنا چاہیے، آزادکشمیرکا ماحول ہمیشہ اچھا رہا ہے، اس کےاندر اس طرح کے جراثیم داخل ہوجائیں تو اچھی بات نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے اپنے کچھ ساتھیوں کےہارنے کا بہت دکھ ہوا ہے، ان عوامل کو دیکھنا چاہیے جس سے وہ شکست سے دوچار ہوئے، ہمارے اچھے امیدوار تھے، ان کو شکست ہوئی ہے تو ان کی شکست کی وجوہات کی طرف جانا چاہیے، آزاد کشمیر الیکشن کے پہلے 2 مرحلوں میں ہمیں اکثریت مل چکی ہے، امیر مقام ایسے انتخابی مہم چلا رہے تھے جیسے ان کا اپنا الیکشن ہو، ہمیں حوصلہ نہیں ہارنا۔
یہ بھی پڑھیں: 355 پاکستانی و غیر ملکی شخصیات کوایوارڈز دینے کی منظوری
سابق وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ ملک آگے کی طرف بڑھ رہا ہے، ہم بہت جلد مسائل پر قابو پا لیں گے، ہم نے اہنے منشور پر 100 فیصد عمل کرنا ہے،آزادکشمیر پہاڑی علاقہ ہے یہاں ہیلی کاپٹر ہونا ضروری ہے، شہباز شریف آزاد کشمیر حکومت کو ہیلی کاپٹر دیں، جب میں وزیراعظم تھا تو ڈالر 100 روپے کا تھا، اس کے بعد ڈالرکہاں سے کہاں چلا گیا، ایک حکومت نے جو نعرے لگائے تھے وہ سارے کے سارے بیکارگئے،کسی نعرے پرعمل نہیں ہوا، تنقید میں نہیں جانا چاہتا لیکن پاکستان کا حال جو نعرے لگانے والی حکومت میں ہوا ایسا حال پاکستان کا کبھی نہیں دیکھا۔
انہوں نےکہا کہ ابھی شہباز شریف تمام معاملات کو ٹھیک کر رہے ہیں، جب شہباز شریف نے حکومت سنبھالی تو حالات بہت خراب تھے، آج حالات دن بدن بہتر ہو رہے ہیں اورکوشش کر رہےہیں کہ پاکستان کو اپنے پاؤں پرکھڑا کیا جائے، کوشش کر رہےہیں کہ آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کیا جائے اور پاکستان اقتصادی طورپرخودمختار ملک بن جائے۔