حکومت کو پیٹرول کی قیمتیں روزانہ مقرر نہ کرنے کی تجویز پیش
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایسوسی پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایسوسی کے چیئرمین ملک خدا بخش نے بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگی صورتحال میں کمی کے باعث قیمتوں کے تعین کا سابقہ طریقہ بحال کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال کی دھمکی کے بعد حکومت نے مارجن میں ایک روپے 34 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد مجموعی مارجن 10 روپے ہو گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ہفتے کو ہونے والی ہڑتال ملتوی کر دی گئی۔
ملک خدا بخش کے مطابق اسلام اباد میں مذاکرات کے بعد وزیر پٹرولیم نے وزیراعظم کی جانب سے مارجن میں اضافے کی منظوری سے آگاہ کیا جب کہ اس حوالے سے سمری اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو بھی بجھوائی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ڈیلرز کے 8 فیصد مارجن کے مطالبے پر حکومت اور ایسوسی ایشن کی مشترکہ کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو 30 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ انکا کہنا تھا کہ یقین دہانیوں پر احتجاج مؤخر کیا ہے، تاہم تمام مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا حق برقرار رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کا دباؤ،عوام سے پیٹرولیم لیوی کی وصولی میں اضافہ
پی پی ڈی اے کے وائس چیئرمین طارق حسن نے کہا کہ گزشتہ تین سال سے مارجن میں اضافہ نہ ہونے کے باعث حکومت کے پاس ڈیلرز کے تقریباً 50 ملین ڈالر رکے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب وائس چیئرمین انور کمال نے بتایا کہ حکومت نے ملک بھر کے پٹرول پمپس کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو 23 مارچ 2027 تک مہلت دی ہے۔ ان کے مطابق ملک کے تقریبا 14 ہزار پٹرول پمپس میں سے اب تک صرف 10 فیصد ڈیجیٹائز ہو سکے ہیں۔