چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہرکی والدہ انتقال کر گئیں
تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری پیغام میں چیئرمین پی ٹی آئی گوہر خان نے کہا کہ انتہائی رنج و غم کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ ہماری نہایت محترم، شفیق اور پیاری والدہ انتقال فرما گئی ہیں۔
انہوں نے دعاؤں کی اپیل کرتے ہوئے بتایا کہ نماز جنازہ ہفتہ (8 اگست) کو 4 بجے گاؤں ڈگر ضلع بونیر میں ادا کی جائے گی۔
یاد رہے بیرسٹر گوہر علی خان پاکستان کی موجودہ سیاست میں اہم مقام رکھنے والے رہنما ہیں اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت ایسے وقت میں کر رہے ہیں جب پارٹی کو مختلف سیاسی اور قانونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ وہ بنیادی طور پر ایک معروف آئینی و قانونی ماہر ہیں اور سیاست میں آنے سے قبل وکالت کے شعبے میں نمایاں مقام بنا چکے تھے۔
بیرسٹر گوہر علی خان کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع بونیر سے ہے۔ ان کے والد عبدالرؤف خان بھی سیاسی شخصیت تھے اور بونیر سے صوبائی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔ قومی اسمبلی کے سرکاری پروفائل کے مطابق بیرسٹر گوہر علی خان کا مستقل تعلق گاؤں ڈگر، ضلع بونیر سے ہے اور وہ 2024 کے عام انتخابات میں بونیر کے حلقہ این اے 10 سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ انہوں نے 29 فروری 2024 کو رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کو دوبارہ مذاکرات کی نئی پیشکش
قانون کے شعبے میں بیرسٹر گوہر علی خان نے بیرون ملک بھی تعلیم حاصل کی۔ وہ یونیورسٹی آف وولورہیمپٹن سے ایل ایل بی اور یونیورسٹی آف واشنگٹن اسکول آف لا سے ایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں۔ وہ انگلینڈ اینڈ ویلز کی بار سے بھی منسلک رہے اور بعد ازاں پاکستان میں بطور وکیل اہم مقدمات کی پیروی کرتے رہے۔
ان کا سیاسی سفر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت سے پہلے بھی سیاسی سرگرمیوں سے جڑا رہا۔ تاہم 2022 میں پی ٹی آئی میں شمولیت کے بعد وہ پارٹی کے بانی عمران خان کے قانونی معاملات میں وکیل کی حیثیت سے نمایاں ہوئے۔ 2023 میں انہیں پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا، جس کے بعد پارٹی کے اندر ان کا کردار مزید اہم ہوگیا۔
2 دسمبر 2023 کو بیرسٹر گوہر علی خان نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کے بعد پارٹی چیئرمین کا منصب سنبھالا۔ ان کا انتخاب ایسے وقت میں ہوا جب عمران خان مختلف قانونی مقدمات کے باعث پارٹی کی عملی قیادت سے محدود ہو چکے تھے۔ اس مرحلے پر بیرسٹر گوہر علی خان نے پارٹی کی سیاسی اور قانونی نمائندگی میں اہم کردار ادا کیا۔
2024 کے عام انتخابات کے بعد بھی بیرسٹر گوہر علی خان پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت میں نمایاں رہے۔ انہوں نے پارٹی کے انتخابی نتائج، مخصوص نشستوں، انتخابی نشان اور دیگر قانونی و سیاسی معاملات پر پارٹی کا مؤقف مختلف فورمز پر پیش کیا۔ قومی اسمبلی میں بھی وہ پی ٹی آئی کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔
بیرسٹر گوہر علی خان کی سیاسی شناخت کے ساتھ ساتھ ان کا قانونی پس منظر بھی ان کی شخصیت کا اہم پہلو ہے۔ عمران خان اور پی ٹی آئی سے متعلق مختلف مقدمات میں ان کی قانونی ٹیم کے رکن کی حیثیت سے موجودگی نے انہیں قومی سطح پر نمایاں کیا۔