آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے ہڑتال کا اعلان کردیا
ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ تمام ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز متفقہ طور پر اس احتجاج میں شامل ہوں گی اور مطالبات تسلیم ہونے تک ہڑتال جاری رکھی جائے گی۔
کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے رہنما ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ٹرانسپورٹرز کا چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کر دیا گیا ہے، تاہم مطالبات پر پیش رفت نہ ہوئی تو ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی۔
انہوں نے وزیر پیٹرولیم پرویز علی ملک سے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے موجودہ طریقہ کار پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
ٹرانسپورٹرز نے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر مقرر کرنے کا نظام ختم کر کے ماہانہ بنیاد پر قیمتوں کا اعلان کیا جائے، جبکہ حالیہ اضافے بھی واپس لیے جائیں۔
ملک شہزاد اعوان کے مطابق ٹول ٹیکس میں کیا گیا اضافہ فوری طور پر واپس لے کر اسے 30 جون 2024 کی سطح پر لایا جائے۔
انہوں نے گڈز ٹرانسپورٹ سیکٹر پر عائد 7 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس ختم کر کے اسے آئل ٹینکرز کی طرح 2 فیصد کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
ٹرانسپورٹرز نے ایکسل لوڈ قوانین پر مؤثر عملدرآمد، اوورلوڈنگ کے خاتمے، کسٹمز کے ایس آر او 1619/2024 کے خاتمے اور ڈرائیورز کو ٹیسٹ کے بعد ایچ ٹی وی لائسنس جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم کے قریب مال بردار گاڑیوں کیلئے مناسب پارکنگ کی سہولت فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ٹرانسپورٹرز کی گاڑیوں کو جلانے کے واقعات تشویشناک ہیں، امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں:دریاؤں میں پانی کی سطح بلند، سیلاب الرٹ جاری
مزید برآں اتحاد نے 20 سال پرانی گاڑیوں پر پابندی کے قانون اور روڈ حادثات میں 97 لاکھ روپے دیت کے قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا، جبکہ سندھ میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کے دوران تھرڈ پارٹی انشورنس کے نام پر مبینہ اضافی وصولیوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے مطالبات پر سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو 8 اگست سے شروع ہونے والی ہڑتال ملک کی ترسیلات اور سپلائی نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔