پنجاب سے سندھ تک سیلابی پانی کی تباہ کاریاں شروع
مریدکے کے نواحی گاؤں خوشحال پورہ میں نالہ ڈیک کا پانی آبادی اور کھیتوں میں داخل ہوگیا، جس کے باعث سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان کی فصل تباہ ہوگئی۔
متاثرہ شہریوں نے محکمہ ایریگیشن کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اگر بروقت نالے اور بھل کی صفائی کی جاتی تو پانی آبادیوں اور فصلوں تک نہ پہنچتا۔
مظاہرین نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا کہ غفلت کے ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے اور متاثرہ کسانوں کو فوری مالی امداد فراہم کی جائے۔
ادھر نارووال کے علاقے کالاخطائی کے قریب ریلوے ٹریک بھی سیلابی پانی کی زد میں آگیا، موسلادھار بارشوں اور نالہ ڈیک کے بند ٹوٹنے کے بعد کئی علاقوں میں ہر طرف پانی ہی پانی نظر آرہا ہے۔ ہزاروں ایکڑ پر مشتمل چاول کی فصلیں زیرِ آب آچکی ہیں، جبکہ متعدد رابطہ سڑکیں بھی پانی میں ڈوب جانے سے آمدورفت شدید متاثر ہوگئی ہے۔
دوسری جانب پنڈی بھٹیاں میں دریائے چناب کا کٹاؤ بے قابو ہوگیا، جہاں بپھرے پانی نے کچے گرنہ کے کئی گھروں اور زرعی زمینوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، مقامی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
سندھ کے ضلع کشمور میں گڈو بیراج پر دریائے سندھ کی سطح آب مسلسل بلند ہورہی ہے، حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پانی میں 65 ہزار 699 کیوسک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ آئندہ چند گھنٹوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سابق چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ڈاکٹر پرویز بٹ وفات پا گئے
مقامی انتظامیہ نے نشیبی علاقوں کے مکینوں کو محتاط رہنے اور ممکنہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر حفاظتی اقدامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی ہے۔