محکمہ تعلیم کا 10 ہزار سے زائد ملازمین برطرف کرنے کا فیصلہ
محکمہ تعلیم کے مطابق ابتدائی مرحلے میں حیدرآباد ڈویژن کے 200 سے زائد ملازمین کو مبینہ گھوسٹ ملازم قرار دے کر برطرف کرنے کی کارروائی کی جا رہی ہے۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ مختلف اضلاع اور ڈویژنوں میں کی گئی جانچ پڑتال کے دوران بڑی تعداد میں ایسے ملازمین سامنے آئے جو طویل عرصے سے اپنی ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہو رہے تھے۔ ان ملازمین کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، تاہم متعدد افراد تسلی بخش وضاحت پیش کرنے میں ناکام رہے۔
حکام کے مطابق مبینہ گھوسٹ ملازمین میں نائب قاصد، چوکیدار، مالی، لیب اٹینڈنٹ، پرائمری اسکول ٹیچرز اور جونیئر ایلیمینٹری اسکول ٹیچرز شامل ہیں۔
محکمہ کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ ایسے ملازمین حیدرآباد ڈویژن میں پائے گئے، جہاں ابتدائی طور پر 200 سے زائد افراد کو اشتہاری گھوسٹ ملازم قرار دیا گیا ہے۔
محکمہ تعلیم کے مطابق صرف حیدرآباد ہی نہیں بلکہ کراچی، میرپورخاص، سکھر، لاڑکانہ اور شہید بینظیر آباد ڈویژنوں میں بھی ہزاروں کی تعداد میں مبینہ گھوسٹ ملازمین کی نشاندہی ہوئی ہے، جن کیخلاف قانونی اور محکمانہ کارروائی جاری ہے۔
حکام نے بتایا کہ تمام قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد اگست کے دوران ان ملازمین کو ملازمت سے فارغ کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:بجلی 10 گھنٹے تک بند رہے گی، شیڈول جاری
سندھ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد سرکاری تعلیمی نظام میں شفافیت، نظم و ضبط کو بہتر بنانا اور قومی خزانے کے ضیاع کو روکنا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کارروائی قانون اور محکمانہ قواعد کے مطابق مکمل کی جائے گی تاکہ کسی بھی ملازم کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔