کرپٹو کرنسی جائز ہے، پہلے بھی فتویٰ جاری کر چکے ہیں، مولانا بشیر فاروق
ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ فتویٰ اسلامی نظریاتی کونسل، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور متعلقہ وزارت کو بھی ارسال کیا جا چکا ہے۔
میڈیا پر کرپٹو کرنسی سے متعلق جاری بحث اور رپورٹس کے بعد سیلانی ویلفیئر کے ہیڈ آفس کراچی میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا، جس کی صدارت مولانا محمد بشیر فاروق قادری نے کی۔
اجلاس میں بلاک چین ٹیکنالوجی سے وابستہ ماہرین، دینی اسکالرز اور رئیس المفتی مفتی وسیم اختر المدنی نے بھی شرکت کی۔
اجلاس کے دوران کرپٹو کرنسی کے شرعی، معاشی اور تکنیکی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ اس کے جائز یا ناجائز ہونے سے متعلق مختلف آرا پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکا نے جدید مالیاتی نظام میں ڈیجیٹل اثاثوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور عالمی رجحانات پر بھی گفتگو کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا بشیر فاروق قادری نے کہا کہ ان کے نزدیک کرپٹو کرنسی شرعی اصولوں کے مطابق جائز ہے اور اس حوالے سے جاری کیا گیا فتویٰ آج بھی برقرار ہے، اس معاملے پر غیر ضروری ابہام پیدا کرنے کے بجائے علمی اور فنی بنیادوں پر گفتگو ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیلانی ویلفیئر ہمیشہ ریاستی پالیسی اور ملکی قوانین کا احترام کرتی ہے، ان کے مطابق اگر حکومت اور متعلقہ ادارے کرپٹو کرنسی کے حوالے سے کوئی ضابطہ یا پالیسی مرتب کرتے ہیں تو سیلانی اسی کے مطابق عمل کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں:گھر میں آگ لگنے سے میاں بیوی اور بچوں سمیت 6 افراد جاں بحق
مولانا بشیر فاروق قادری کا کہنا تھا کہ دنیا کے متعدد ممالک میں کرپٹو کرنسی اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے مالی لین دین کیا جا رہا ہے، اس لیے پاکستان کو بھی جدید ٹیکنالوجی اور عالمی مالیاتی رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے جامع پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
تاہم کرپٹو کرنسی کے شرعی اور قانونی پہلوؤں پر مختلف علماء اور ماہرین کی آرا موجود ہیں، اس حوالے سے حتمی ریگولیٹری پالیسی کا اختیار متعلقہ ریاستی اداروں کے پاس ہے۔