کراچی: لیاری میں جماعت اسلامی کے دفتر پر دستی بم حملہ
واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر تحقیقات کا آغاز کر دیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق حملے میں زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر سول اسپتال کراچی منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی، ابتدائی اطلاعات کے مطابق زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق زخمی ہونے والوں کی شناخت عبدالباقی حسین، غلام مصطفی اور محمد کے ناموں سے ہوئی ہے، دھماکے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی نوعیت اور حملہ آوروں کے بارے میں مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، جائے وقوعہ سے فرانزک شواہد بھی حاصل کیے جا رہے ہیں تاکہ حملے میں استعمال ہونے والے مواد اور ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے۔
سیکیورٹی اداروں نے واقعے کے بعد اطراف کے علاقوں میں نگرانی مزید سخت کر دی ہے، جبکہ حملہ آوروں کی تلاش کیلئے مختلف مقامات پر سرچ کارروائیاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد ہی حملے کے محرکات اور ذمہ دار افراد کے بارے میں حتمی مؤقف سامنے لایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:خوفناک ٹریفک حادثہ، 4 افراد جاں بحق، متعدد زخمی
دوسری جانب جماعت اسلامی کے کارکنوں اور مقامی رہنماؤں نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حملے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔