پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا ضافہ متوقع
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے عالمی تیل منڈی میں ایک بار پھر بے یقینی پیدا کر دی۔ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خدشات کے باعث خام تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر جا رہی ہیں، جس کے اثرات پاکستان تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
صرف چند روز میں امریکی خام تیل تقریباً 82 ڈالر اور برطانوی برینٹ 84 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔کچھ عرصہ پہلے یہی قیمتیں 68 اور 71 ڈالر کے قریب تھیں۔ ماہرین کے مطابق تیل کی درآمدات پر انحصار کرنے والے ممالک، خصوصاً پاکستان، اس اضافے سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایل این جی کے نئے کنکشن ستمبر سے بحال ہونے کا امکان
دوسری جانب حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار تبدیل کرنے پر غور شروع کر دیا ۔ وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک کی زیرِ صدارت پیٹرولیم کی قیمتوں کے لیے اصلاحات کمیٹی اجلاس میں روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین، پر غور کیا گیا۔ کمیٹی اپنی سفارشات وزیراعظم کو پیش کرے گی۔ جن کی روشنی میں پٹرولیم قیمتوں کے تعین کا نیا طریقہ کار طے کیا جائے گا۔
ماہر معیشت سید واصف نقوی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کو دیکھے ہوئے میرا نہیں خیال کہ حکومت فوری یہ فیصلہ لے پائے گی، کہ ہر دن پرائسز کو کیٹر کر پائے گی، حکومت ایک ایوریج رکھے گی اس میں ایکسچینج ریٹ لیوی بھی سمیت بہت سارے فیکٹر شامل ہیں۔