پنکی کو وزیراعظم سے زیادہ پروٹوکول کیوں دیا گیا ؟ سینیٹر سیف اللہ ابڑو
سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت ہونے والے حالیہ اجلاس میں سندھ پولیس کے اعلی احکام نے کیس پر بریفننگ ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ایک منتخب سینیٹر کو مناسب سکیورٹی نہیں ملتی لیکن ایک ملزمہ کو 20٫20 پولیس موبائلز کا پروٹوکول دیا جارہا ہے اسکی وجوہات سامنے آنی چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ یہ خاتون تو گویا پورے ایوان سے بھی بڑی ہوگئی ہے اسکی گرفتاری پر پارلیمنٹ میں بھی غیر معمولی ردعمل دیکھنے میں آیا تھا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحقیقات کی جائیں کہ آخر اس ملزمہ کے پیچھے کون سی بااثر شخصیات موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی آبی جارحیت کی وجہ سے ہمارے 6 ہزار لوگ جاں بحق ہوچکے، مصدق ملک
دوسری جانب اجلاس کے دوران ٹیکس چوری کے معاملے پر غلط معلومات فراہم کرنے پر چیئرمین کمیٹی، ایف بی آر کے چیف آپریشنز پر بھی برہم ہوگئے اور انہوں نے سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ افسر کو اجلاس سے باہر جانے کی ہدایت جاری کر دی۔
کمیٹی نے وزارت اطلاعات سے تمباکو سے متعلق ٹی وی اشتہارات کی تفصیلات طلب کرلیں جبکہ ملک میں سگریٹ تیار کرنے والی کمپنیوں، برانڈز اور انکی جانب سے ادا کیے گئے ٹیکس کی مکمل رپورٹ بھی مانگ لی گئی ہے۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ چند افسران کی ناقص کارکردگی سے ادارے کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے، انہوں نے متعلقہ وزیر سے ایسے افسران کو عہدوں سے ہٹانے کی سفارش کرتے ہوئے وزیراعظم سے بھی اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
اجلاس میں 25 کروڑ روپے مالیت کے سگریٹ ٹیکس چوری کیس کا بھی جائزہ لیا گیا اور متعلقہ احکام سے مزید تفصیلات بھی طلب کر لی گئیں۔