جولائی تا ستمبر کے دوران موسم کیسا رہے گا؟ اہم پیشگوئی
موسم کا احوال بتانے والوں کے مطابق بیشتر علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے، خاص طور پر بلوچستان، پنجاب اور جنوبی خیبر پختونخوا میں گرمی کی شدت معمول سے زیادہ رہ سکتی ہے۔
ایڈوائزری میں جنوبی پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں میں وقفے وقفے سے ہیٹ ویو جیسی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق شمالی علاقوں، گلگت بلتستان، کشمیر اور بالائی خیبر پختونخوا میں معمول کے مطابق یا معمول سے کچھ زیادہ بارشیں متوقع ہیں، ان بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی، فلیش فلڈنگ اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود رہے گا۔
اسی طرح پہاڑی علاقوں میں بارشوں اور برف پگھلنے سے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد بڑھ سکتی ہے جبکہ زیادہ درجہ حرارت گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔
پیشگوئی میں خبردار کیا گیا ہے کہ سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بڑے شہروں میں شدید بارشوں کے دوران اربن فلڈنگ کا خدشہ برقرار رہے گا۔
دوسری جانب پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں معمول سے کم بارشوں کے باعث خریف کی فصلوں، سبزیوں اور باغات کو پانی کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے جس سے آبپاشی کی ضرورت بڑھ جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پیدائشی سرٹیفکیٹ بنوانے والوں کے لیے اہم خبر
محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ درجہ حرارت میں فرق کے باعث تیز ہوائیں، گرد آلود آندھیاں، گرج چمک اور ژالہ باری فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اس لیے کسان تازہ موسمی ایڈوائزری دیکھ کر آبپاشی، کٹائی اور دیگر زرعی امور انجام دیں۔
عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ شدید گرمی کے دوران صبح 11 بجے سے شام 4 بجے تک غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، زیادہ پانی پئیں، ہلکے کپڑے پہنیں اور بچوں، بزرگوں سمیت کھلے ماحول میں کام کرنے والے افراد خصوصی احتیاط کریں۔