عادی مجرم بل سیاسی انتقام نہیں، اس پر نظر ثانی کی جائے گی: عظمیٰ بخاری
تفصیلات کے مطابق وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ یہ بل عادی جرائم پیشہ افراد کے خلاف موثر قانونی نظام متعارف کرانا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک ابتدائی مسودہ ہے جسے اسمبلی میں اس لیے پیش کیا گیا تاکہ ارکان کی آرا اور اجتماعی دانش مندی کی روشنی میں اسے مزید بہتر بنایا جا سکے۔
عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ وزیراعلی مریم نواز شریف بھی بل پر نظر ثانی کے خلاف نہیں ہے بلکہ انہوں نے بل پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اگر ضرورت پیش آئی تو صرف چند شقیں نہیں بلکہ پورے بل میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجوزہ قانون کے تحت 1918 کے قانون اور پنجاب کنٹرول آف غنڈہ ایکٹ 1959 کو ختم کرکے نیا قانونی فریم ورک متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے، ان کے مطابق عادی مجرم سے مراد وہ شخص ہوگا جس کے خلاف متعدد مقدمات درج ہوں اور وہ بارہاں جرائم میں ملوث بھی رہا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: پیرا میں اختیارات کے ناجائز استعمال پر زیرو ٹالرنس ہوگی: مریم نواز
وزیر اطلاعات نے کہا کہ بعض حلقوں نے اس بل کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ دیا ہے حالانکہ اس کا تعلق عام شہریوں سے نہیں بلکہ عادی مجرموں سے ہے، انہوں نے مزید کہا کہ گالی گلوچ سے متعلق شق پر بھی تحفظات سامنے آئے ہیں اس لیے ہم اس معاملے کا ازسر نو جائزہ لے گے تاکہ قانون عوامی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔
انہوں نے بتایا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے بھی اعتراف کیا ہے کہ وہ بل کا مکمل مطالعہ نہیں کر سکے تھے، عظمی بخاری نے بل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ سندھ اسمبلی بھی 2023 میں اسی نوعیت کا قانون منظور کر چکی ہے اور موجودہ حالات میں ایسے قوانین وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
مزید برآں، انہوں نے واضح کیا ہے کہ تمام سفارشات اور ترامیم شامل کرنے کے بعد پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئل آفینڈرز بل اگست میں دوبارہ پیش کیا جائے گا۔