پیرا میں اختیارات کے ناجائز استعمال پر زیرو ٹالرنس ہوگی: مریم نواز
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کی کارکردگی پر حال ہی میں خصوصی جائزہ اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں ادارے کی کارکردگی، ڈیجیٹل نظام، قانونی امور اور آئندہ کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے عوامی شکایات کے بروقت حل کیلئے "آسک پیرا" پورٹل کو مزید فعال بنانے کا حکم دیا اور ڈی جی پیرا کو عوام سے براہ راست رابطہ بڑھانے کی ہدایت کی، انہوں نے کہا کہ پیرا کا ہر اقدام عوامی مفاد کیلئے ہونا چاہیے اور شہریوں کے ساتھ خوش اخلاقی اور قانون کے مطابق رویہ اختیار کیا جائے۔
مریم نواز شریف نے واضح کیا کہ عوام پر رعب ڈالنے، کرپشن کرنے یا اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے اہلکاروں کیلئے پیرا میں کوئی جگہ نہیں ہے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پیرا ریکوزیشن رولز کے مطابق کاروائی یقینی بنائی جائے جبکہ قانونی کارروائی میں مزاحمت کی روایت کا خاتمہ اور بالادستی ہر صورت قائم رکھی جائے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پیرا کی کاروائیوں کی نگرانی کیلئے ڈیجیٹل ریکوزیشن لازمی قرار دے دی گئی ہے اور چالان کا پورا نظام بھی مرحلہ وار الیکٹرانک کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کے دوبارہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
بریفنگ کے مطابق پیرا نے صوبے بھر میں اب تک 15 لاکھ 27 ہزار سے زائد انسپکشنز کیں، قوانین کی خلاف ورزی 3 ہزار 509 دکانیں سیل کیں جبکہ انسداد تجاوزات مہم کے دوران 21 ہزار کنال سے زیادہ سرکاری اراضی واگزار کرائی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ محکمانہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر دیگر محکموں کے 351 ملازمین واپس بھیجے گئے، پیرا کے اندر احتسابی کاروائیوں کے نتیجے میں 700 سزائیں دی گئیں اور غفلت برتنے پر 20 ملازمین کو ملازمت سے برخاست کیا گیا۔
وزیراعلی کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ عدالتوں میں دائر 136 رٹ درخواستوں میں سے 99 فیصد فیصلے پیرا کے حق میں آئے جبکہ پیرا ایکٹ کے تحت دستی چالان پر پہلی ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی ہے۔
اجلاس میں اینٹی کروچمنٹ کے حوالے سے بتایا گیا کہ کاروائی سے قبل نوٹس جاری کرنا اور متعلقہ افراد کو پیشگی آگاہ کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاؤہ کلر کہار میں پیرا کی جدید تربیتی اکیڈمی پر کام جاری ہے جبکہ جون 2027 تک ادارے میں مستقل بھرتیوں کا عمل مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔