وزیراعظم شہباز شریف نے سہیل آفریدی کو اعتماد میں لے لیا
سہیل آفریدی نے یہ بھی بتایا کہ نئے این ایف سی ایوارڈ میں ضم شدہ اضلاع کا مالی حصہ شامل ہوگا جو خیبر پختونخوا کیلئے خوش آئند بات ہے۔
رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) اپڈیٹ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، جس کے تحت ضم اضلاع کو بھی شامل کیا جائے گا جو صوبے کے عوام کیلئے ایک بڑی کامیابی ہے۔
نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس کے بعد میڈیا سے نمائندوں کے سوالات کے جواب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ اجلاس میں خیبر پختونخوا کے عوام کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا، صوبے کے آئینی، مالی اور ترقیاتی حقوق کے تحفظ کیلئے واضح مؤقف اختیار کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ 180 دن کے اندر این ایف سی ایوارڈ کو اپڈیٹ کرنے کیلئے باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے، تاہم اگر مقررہ مدت میں اتفاق رائے نہ ہو سکا تو صدر مملکت کو سمری بھجوا کر صدارتی آرڈر کے ذریعے این ایف سی ایوارڈ اپڈیٹ کیا جائے گا۔
سہیل آفریدی نے کہا ضم شدہ اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام اور اے آئی پی میں مزید بہتری لائی جائے گی تاکہ وہاں کے عوام کو ترقیاتی ثمرات بروقت پہنچ سکیں۔
انہوں نے آئین کے آرٹیکل 151 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اشیائے ضروریہ کی آزادانہ نقل و حمل یقینی بنانا وفاق کی آئینی ذمہ داری ہے، تاہم اگر اس آرٹیکل پر عمل درآمد ممکن نہیں تو پھر آئین سے اس شق کو ختم کر کے صوبوں کو اپنی پالیسی اختیار کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاسکو کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت ایک لاکھ 75 ہزار ٹن گندم مقررہ نرخ پر خیبرپختونخوا کو فراہم کی جائے گی، وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ گندم کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:بے نظیر انکم سپورٹ کے مستحقین کیلئے خوشخبری
وزیر اعلی کے پی نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت ملک بھر میں امن و امان کے قیام کیلئے سب سے زیادہ سرمایہ کاری کر رہی ہے، 5 اکتوبر 2025 سے اب تک پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی اور سپیشل برانچ کی استعداد کار بڑھانے پر 30 ارب روپے سے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں۔ پولیس، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کو مزید مضبوط بنانے کیلئے بھی اقدامات جاری رکھے جائیں گے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاق کے ساتھ تعلق صوبے اور عوام کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھائیں گے، این ای سی اور این ایف سی اجلاسں میں شرکت صوبے کے حقوق اور عوامی مفادات کے تحفظ کیلئے ناگزیر ہے۔