حکومتی ذرائع کے مطابق یہ رقم بینک آف پنجاب کے ذریعے ان افراد کو منتقل کی گئی ہے جنہوں نے مقررہ طریقہ کار کے مطابق پروگرام کے لیے درخواست دی تھی اور جن کی درخواستوں کی باقاعدہ جانچ پڑتال کے بعد منظوری دی گئی۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد ان شہریوں کو سہولت فراہم کرنا ہے جو روزمرہ آمدورفت کے لیے موٹر سائیکل کا استعمال کرتے ہیں اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث مالی دباؤ کا شکار ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ صرف وہی افراد اس سبسڈی کے اہل قرار پائے ہیں جن کے نام پر ذاتی موٹر سائیکل رجسٹرڈ ہے، جبکہ درخواست دہندگان کی تفصیلات کو نادرا اور دیگر متعلقہ اداروں کے ڈیٹا سے بھی تصدیق کیا گیا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ حکومت نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ امداد صرف حقیقی مستحقین تک پہنچے، اسی لیے سخت مانیٹرنگ کا نظام متعارف کروایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی مارکیٹ سے فنڈز کیلئے بانڈز، سکوک اجرا کی تیاری
مزید بتایا گیا ہے کہ شہریوں کو اپنی رقم حاصل کرنے کے لیے کسی دفتر کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں، بلکہ وہ اپنے متعلقہ بینک اکاؤنٹس چیک کر کے آسانی سے رقم نکال سکتے ہیں۔ جن افراد کو رقم موصول ہو چکی ہے، انہیں ایس ایم ایس کے ذریعے بھی آگاہ کیا جا رہا ہے تاکہ وہ بروقت اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیول سبسڈی پروگرام کا آغاز، درخواست کیسے دیں؟
ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف عوام کو فوری مالی سہارا فراہم کرے گا بلکہ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کو بھی کسی حد تک کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ حکومت پنجاب نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو اس پروگرام کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اس سے مستفید ہو سکیں۔