چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تین فوجداری درخواستوں پر سماعت کی، یہ درخواستیں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے دائر کردہ فوجداری ٹرائل کے دوران جاری ہونے والے مختلف عبوری اور طریقہ کار کے احکامات کے خلاف دائر کی گئی تھیں۔
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواستوں پر 12 فروری کی سماعت کا 7 صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔
عدالتی حکم میں لکھا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی لیونگ کنڈیشن سے متعلق معاملہ غیر موثر ہو چکا، اٹارنی جنرل نے عدالتی حکم کی تعمیل میں بانی پی ٹی آئی کی جیل میں زندگی کے حالات سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرائی ، سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے جیل میں موجودہ حالات کی آزادانہ تصدیق کے لیے بیرسٹر سلمان صفدر کو فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کیا تھا۔
تحریری حکمنامہ میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی لیونگ کنڈیشن سے متعلق فرینڈ آف دی کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر نے رپورٹ جمع کرا دی، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اور بیرسٹر سلمان صفدر کی رپورٹس کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے جیل میں اپنی حفاظت، سکیورٹی، رہائشی حالات اور کھانے پینے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ، عمران خان کی میڈیکل رپورٹس فراہم کرنیکا مطالبہ
عدالتی حکم میں کہا گیا کہ فرینڈ آف دی کورٹ اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹس کے بعد 23 اگست اور24 اگست 2023 کے حکمنامے پر عمل درآمد ہوچکا، فرینڈ آف دی کورٹ کی رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کی بگڑتی ہوئی حالت کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
تحریری حکمنامہ میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ 16 فروری سے قبل ماہر امراضِ چشم کی ٹیم کے ذریعے بانی کا طبی معائنہ یقینی بنایا جائے گا، 24 اگست 2023 کو بانی پی ٹی آئی کے جیل میں حالاتِ زندگی کے حوالے سے جو خدشات ظاہر کیے تھے، ان کی تعمیل ہو چکی ہے۔
عدالتی حکم میں لکھا گیا کہ عدالت نے ہدایت کی بانی پی ٹی آئی کو قانون کے مطابق برطانیہ میں مقیم اپنے بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دی جائے۔
عدالت نے قرار دیا کہ دیگر 2 درخواستیں ٹرائل کورٹ کے عبوری احکامات کے خلاف تھیں جن میں دائرہ اختیار سے متعلق اعتراض اور بعض گواہوں کو طلب کرنے کی درخواست کو مسترد کیا جانا شامل تھا، تاہم ٹرائل کورٹ مقدمہ مکمل کر کے 5 اگست 2023 کو حتمی فیصلہ سنا چکی ہے۔
اس کو بھی پڑھیں: عمران خان کے طبی معائنے کی رپورٹ سامنے آ گئی
فیصلے میں کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے 5 اگست 2023 کو حتمی فیصلہ سنائے جانے کے بعد یہ تمام درخواستیں غیر موثر ہو چکی ہیں ، درخواست گزار ٹرائل کی مبینہ بے قاعدگیوں یا غیر قانونی اقدامات کے خلاف اپنی تمام شکایات ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت اپیل میں اٹھانے کا حق رکھتے ہیں۔
عدالتی حکم میں لکھا گیا کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے سابقہ احکامات کی روشنی میں ان درخواستوں کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیا جاتا ہے، ان درخواستوں کو ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد دوبارہ لگایا جائے گا۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اگر اس دوران درخواست گزار کو کوئی شکایت ہو تو مناسب فورم ہائی کورٹ ہے جہاں ان کی اپیل زیرِ التوا ہے۔