رپورٹ کے مطابق جہلم کے تھانہ سٹی میں ملزم کے خلاف اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا، محمد علی مرزا پر مبینہ قاتلانہ حملے کا مقدمہ اُن کی اکیڈمی ’قرآن و سنت ریسرچ اکیڈمی‘ کی کور کمیٹی کے ایک رکن کی مدعیت میں درج کروایا گیا ہے۔
انجینئر محمد علی مرزا پر قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش کرنے کے الزام میں گرفتار 26 سالہ ملزم کا تعلق خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد سے بتایا جاتا ہے اور ملزم کالعدم مذہبی جماعت کا کارندہ ہے۔
مقدمہ کے متن میں کہا گیا کہ اتوار کے روز لیکچر کے اختتام پر فوٹو سیشن کے دوران ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے انجینئر محمد علی مرزا پر حملہ کرتے ہوئے اُن کے عمامہ (پگڑی) کو زمین پر پٹخ دیا اور اُن کے گلے کو اپنے دونوں ہاتھوں سے دبوچ کر اُن کا سانس روکنے کی کوشش کی۔
ایف آئی آر کے مطابق اس موقع پر حملہ آور نے بلند آواز میں نعرے بازی کی اور مذہبی سیاسی جماعت کے نعرے لگائے، اس موقع پر موجود افراد نے ملزم کو پکڑا اور اسے اکیڈمی کی ڈیوٹی پر معمور پولیس اہلکاروں کے حوالے کر دیا، ملزم کے خلاف مقدمہ میں اقدام قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلزپارٹی کے رہنما صفدر دلشاد انتقال کرگئے
انجینئر محمد علی مرزا کے وکیل محمد طاہر ایوبی ایڈووکیٹ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ آج کے قاتلانہ حملے کے واقعے کے بعد پولیس اور انتظامیہ نے اکیڈمی میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ قبضے میں لے لیا ہے، ملزم سے تفتیش جاری ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل مارچ 2021 میں بھی انجینئر محمد علی مرزا پر چاقو سے حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں اُن کا بازو معمولی زخمی ہوا تھا تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے تھے، اسی طرح سنہ 2017 میں ہونے والے ایک قاتلانہ حملے میں بھی وہ محفوظ رہے تھے۔
ذہن نشین رہے کہ گزشتہ برس انجینئر محمد علی مرزا کو مبینہ توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم دسمبر 2025 میں انہیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔