تفصیلات کے مطابق وکیل بانی پی ٹی آئی لطیف کھوسہ نے چیف جسٹس یحیحی آفریدی کو خط لکھ دیا جس میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عاصم کو معائنے کی اجازت دی جائے، بانی پی ٹی آئی کو الشفاء ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا جائے، عمران خان کی گرتی ہوئی صحت اہلخانہ اور عوام کیلئے تشویش کا باعث ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عینک کیساتھ عمران خان کی آنکھ 70 فیصد درست ہے: اعظم نذیر
خط میں مزید کہا گیا کہ بیماری کے دوران بھی بانی پی ٹی آئی کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا، عدالتی حکم پر بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ ہوا لیکن اہلخانہ کو لاعلم رکھا گیا، دعویٰ کیا گیا کہ اہلخانہ اور پارٹی قائدین کو بلایا گیا لیکن وہ نہیں آئے، بانی پی ٹی آئی کے اہلخانہ اور پارٹی قیادت کو طبی معائنے کے وقت بلانے کا دعویٰ بالکل غلط ہے، اہلخانہ کو آگاہ کیے بغیر خفیہ طبی معائنے نے کئی خدشات کو جنم دیا ہے۔ طبی معاملے سے اہلخانہ کو باہر رکھنے سے پریشانی اور خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔