سانحہ اسلام آباد پر بسنت تقریبات منسوخ کردیں، دل رنجیدہ ہے: مریم نواز
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں سانحہ پیش آنے پر بسنت سے متعلق سرگرمیاں منسوخ کردیں، دل انتہائی دکھی اور رنجید ہے۔
فوٹو بشکریہ سی ایم پنجاب میڈیا سیل
لاہور: (سنو نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں سانحہ پیش آنے پر بسنت سے متعلق سرگرمیاں منسوخ کردیں، دل انتہائی دکھی اور رنجید ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے کامیاب بسنت فیسٹیول پر اظہار تشکر کرتے ہوئے انتظامیہ اور پولیس سمیت 15 ڈیپارٹمنٹس کو شاباش دی۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ عوام کو سلوٹ کرنے کے بعد نواز شریف کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں، نوازشریف نے تہواروں کو جوڑنے اور خوشیاں منانے کا ویژن دیا، پنجاب کے عظیم کلچر کی بحالی کا سہرہ لاہور کے عوام کے سر ہیں، تین روزہ بسنت سے لاہورسمیت پاکستان میں خوشیاں لوٹ آئیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک دشمن یہاں امن،سکون،چین اورخوشیاں نہیں دیکھ سکتے، ہم ڈریں گے نہیں بلکہ ملک دشمنوں پر قابو پاکر دم لیں گے، لاہوریوں کو خوش دیکھ کر بہت خوش ہوتی ہوں، جنریشن زی کے لوگوں نے پہلی مرتبہ اندرون لاہور کا رخ کیا اورلیپ ٹاپ، آئی پیڈ چھوڑ کر خوشی منائی۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ بسنت دلوں کو جوڑنے والا تہوار ہے،لوگوں کو کھل کر تہوار منانے کا موقع دیا، پوری حکومت نے ایک ٹیم کی طرح کام کیا، آئی جی،کمشنر،سی سی پی او،ڈی آئی جی، ڈی سی، تمام اسسٹنٹ کمشنرز اورپوری ٹیم کو شاباش دیتی ہوں، چھتوں کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کرنے پر سیف سٹی کو بھی شاباش دیتی ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کی جانب سے رمضان میں افطار کا اہتمام

انہوں نے کہا کہ شہر کو خوبصورتی سے سجانے کیلئے ڈی جی پی ایچ اے راجہ منصور نے غیر معمولی کام کیا، پی ایچ اے نے لوگوں کو بسنت کیلئے خوبصورت ماحول دیا، محکمہ ٹرانسپورٹ اور لیسکو کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں، محکمہ انفارمیشن نے بہت اچھا کام کیا اور لوگوں کیلئے تفریح کا سامان کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ محکمہ انفارمیشن نے غیر ملکی مہمانوں کے سامنے بسنت کے ذریعے خوبصورت امیج پیش کیا، ہائی کمشنر ز،قونصل جنرل اور سفارتکاروں کی بہت بڑی تعداد بسنت منانے لاہور آئی، غیر ملکی میڈیا نے نہ صرف بسنت کو کور کیا بلکہ پنجاب اور پاکستان کے مثبت امیج کو اجاگر کرتے ہوئے ہیڈ لائنز لگائیں۔

مریم نواز نے کہا کہ میڈیا نے جس طرح بسنت کو کور کیا ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں، لوگوں کو پتہ چلا کہ پنجاب کی اپنی تاریخ،ثقافت اور ورثہ ہے، بسنت کے تہوار سے پنجاب کے کلچر کو تقویت ملی، عوام نے احتجاج کی کال دینے والوں کی طرف پلٹ کر دیکھا تک نہیں، ارب پتیوں کی کال غریب عوام نے مسترد کردی۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ عوام نے بدتہذیبی کے کلچر کو نظر انداز کر کے بسنت کا کلچر اپنایا، خوشی کی بات یہ ہے کہ سیفٹی راڈ کے بغیر کوئی بائیک نظر نہیں آئی، 9،10ہزار بائیکس کو بغیر سیفٹی راڈ جیو ٹیگ کر کے الرٹ کیا گیا تو انہوں نے خود لگا دیئے، پنجاب کے عوام میں قانون کے احترام کا جذبہ خوشگوار تبدیلی ہے۔

اس کو بھی پڑھیں: لاہور کے بعد دیگر شہروں میں بھی بسنت، وزیراعلیٰ نے نوید سنا دی

انہوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس نے زور زبردستی نہیں بلکہ عوام کو پیار کیساتھ سیفٹی راڈ لگانے پر آمادہ کیا اورلوگوں نے پیار محبت سے رسپانس دیا، حکومت نے موٹرسائیکلوں کے لئے 14 لاکھ سیفٹی راڈ مفت دیئے، لاہور کے عوام نے حکومت کے ایس او پیز پر مکمل طور پر عملدرآمد کیا، پہلی مرتبہ پتنگ بازی کے دوران ڈور سے گلا کٹنے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، پنجاب پولیس میں مزید اصلاحات کرنے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر سے لوگ بسنت منانے لاہور آئے ،کراچی، کے پی کے،کشمیر اور گلگت بلتستان سے لوگ آئے اوربسنت کی خوشیاں منائیں، لاہور کے لوگوں کی چھتیں ہی نہیں بلکہ دل بھی جڑے ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ میری لئے خوشی کا باعث ہے کہ لوگ اختلافات بھلا کر ایک دوسرے سے جڑ گئے، جنریشن زی نے منفی رویوں کو چھوڑ کر مثبت کردار کو اپنایا، عوام نے منفی رویوں اور گالم گلوچ کو یکسر مسترد کر دیا، اپنے مفادات کے لئے ہڑتال کی کال دی گئی، پی ٹی آئی کی عیاری نہیں چلی، پنجاب میں کسی بھی جگہ ہڑتال نہیں ہوئی۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پنجاب میں زیرو شٹر ڈاؤن اور زیرو پہیہ جام تھا، پنجاب میں زیرو ہڑتال تھی، اتوار کے دن لاہور میں دکانیں ویسے ہی مکمل طور پر بند ہوتی ہیں، عوام نے انتشاری اور فسادی ٹولے کی ہڑتال کی کال کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔

یہ بھی دیکھیں: لاہور میں تین روز کے دوران 9 لاکھ گاڑیوں کی انٹری کا ریکارڈ

انہوں نے کہا کہ بسنت کے دنوں میں 26 لاکھ افراد نے مفت ٹرانسپورٹ سے فائدہ اٹھایا، 10 لاکھ گاڑیاں لاہور میں بسنت کے موقع پر داخل ہوئیں، لاہور میں بسنت کی بحالی سے ثقافت بحال ہوئی، لاہوریوں کے چہرے پر خوشی دیکھ کر بہت اچھا لگا، بیرون ملک سے آنے والے لوگوں کی بے حد مشکور ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل نے پہلی بار لاہور کی کھلی فضا میں محفوظ بسنت منائی، اوپر سے نیچے تک سٹریٹ وینڈر نے بھی کمائی کی، رمضان سے پہلے بسنت کا تہوار لوگوں کے لئے کمائی کا اچھا ذریعہ بنا، 10لاکھ گاڑیاں داخل ہونے کے باوجود لاہور میں ٹریفک کا انتظام کمال تھا۔

مریم نواز نے کہا کہ 200کلینک آن ویل اور 25 فیلڈ ہسپتال عوام کی خدمت کے لئے موجود تھے، صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر اور سیکرٹری نادیہ ثاقب کو مبارکباد دیتی ہوں، سابق آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے بہت اچھا کام کیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ لاکھوں لوگ بسنت کے موقع پر گھروں سے نکلے،اس کے باوجود خواتین کی ہراسانی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، 5 فروری کو رات 12بجے تک کوئی پتنگ آسمان میں نہیں تھی اور12 بجے کے بعدآسمان میں پتنگوں کی بہار تھی، مجھے ریکویسٹ آئی کہ پتنگ بازی کا وقت بڑھا دیں میں نے صبح پانچ بجے تک بڑھا دیا۔

اس کو بھی پڑھیں: عمران خان کے بھانجے شاہریز خان بھی بسنت کے رنگوں میں رنگ گئے

انہوں نے کہا کہ دھماکے کے متاثرین کے ساتھ ہیں، زخمیوں کی صحت یابی کے لئے دعا گو ہے، دھماکے بعد اپنی تمام تر مصروفیات ترک کر دیں،مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کریں گے، خودکش حملے پر ہم سب رنجیدہ ہیں۔