ریسکیو ترجمان کے مطابق آتشزدگی کا واعقہ کراچی کے علاقے صدر کی النجیبی موبائل مارکیٹ میں پیش آیا، واقعہ کی اطلاع ملتے ہی فائر اینڈ ریسکیو ٹیم بمعہ ایمبولینس اور فائر بریگیڈ ٹرک جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، جہاں فائر بریگیڈ کی چار گاڑیوں نے آگ بجھانے کے عمل میں حصہ لیا۔
ترجمان واٹر کارپوریشن کے مطابق ریسکیو 1122 نے واٹر کارپوریشن سے فوری مدد طلب کر لی، سی ای او احمد علی صدیقی کی ہدایت پر نیپا اور صفورہ ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی جبکہ واٹر کارپوریشن کی جانب سے فوری طور پر واٹر ٹینکرز جائے وقوعہ پر روانہ کر دیے گئے۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی میئر کراچی مرتضیٰ وہاب جائے وقوعہ پر پہنچ گئے، انہوں نے کہا کہ عوامی جان و مال کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے اور ریسکیو آپریشن کو مزید تیز کیا جائے، بلدیہ عظمیٰ کے افسران اور تمام ریسکیو ٹیمیں اسٹینڈ بائی رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ آتشزدگی کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی
صدر کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن نے بتایا کہ عمارت کی ساتویں منزل پر آگ لگی ہے، عمارت میں موبائل فون کی دکانیں اور دفاتر ہیں، شبہ ہے کہ عمارت میں کچھ لوگ بھی پھنسے ہوئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صدر میں واقع موبائل مارکیٹ میں آتشزدگی کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی سے رپورٹ طلب کر لی اور متاثرہ عمارتوں میں فوری ریسکیو اور امدادی کارروائی کی ہدایت کی۔
سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ آتشزدگی کے اسباب اور ذمہ داران کا تعین کیا جائے گا، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
آئی جی سندھ جاویدعالم اوڈھو نے ایس ایس پی ساؤتھ اور ایس پی ٹریفک ساؤتھ کو جائے وقوعہ پرپہنچنے ، متاثرہ عمارت اوراطراف کے علاقوں کو محفوظ بنانے کا حکم دیا جبکہ فائر بریگیڈ، ایمبولینس اور ریسکیو عملے کی بروقت رسائی کے لئے راستہ کلیئر رکھنے کی ہدایت کی۔
اس کو بھی پڑھیں: گل پلازہ سے مزید 30 لاشیں برآمد، جاں بحق افراد کی تعداد 61 ہو گئی
بعدازاں ڈپٹی میئر کراچی سلمان مراد نے کہا کہ موبائل مارکیٹ میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں نے بروقت کارروائی کی،الحمدللہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کیا جا رہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ متاثرہ دکانداروں کے نقصانات کا جائزہ لیا جائے گا، شہری انتظامیہ صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے۔