گل پلازہ سے مزید 30 لاشیں برآمد، جاں بحق افراد کی تعداد 61 ہو گئی
ہفتے کی رات آتشزدگی کی نذر ہونے والے بدقسمت گل پلازہ سے مزید 30 لاشیں برآمد ہوئیں، افسوسناک واقعہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 61 ہو گئی۔
فائل فوٹو
کراچی: (سنو نیوز) ہفتے کی رات آتشزدگی کی نذر ہونے والے بدقسمت گل پلازہ سے مزید 30 لاشیں برآمد ہوئیں، افسوسناک واقعہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 61 ہو گئی۔

ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی تھی، تمام 30 لاشیں ایک کراکری کی دکان سے ملی ہیں، گل پلازہ میں آگ لگنےکے بعد لوگوں نے خود کو بچانےکے لیے دکان میں بندکرلیا تھا، ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن بھی اسی جگہ کی آئی تھی۔

اسد رضا نے مزید بتایا کہ ملنے والے اعضا مکمل طور پر ناقابل شناخت ہیں ڈی این اے کے بعد حتمی تعداد بتائی جا سکتی ہے ، ملبہ ہٹانےکا کام روک دیا گیا ہے، پہلے لاشیں نکالی جارہی ہیں۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق سول ہسپتال میں صبح سے انسانی اعضا کی باقیات لائی جا رہی ہیں، اب لاشوں کے بجائے باقیات مل رہی ہیں جن کی حالت انتہائی خراب ہے، ان باقیات میں ٹوٹی ہوئی انسانی ہڈیاں اور ٹوٹے ہوئے دانت ملے ہیں، ہڈیاں ٹوٹی ہونے کے باعث ڈی این اےکیلئےسیمپل نہیں لیےجاسکتے۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہو گئی

ان کا کہنا تھا کہ ڈی این اے ٹیسٹ نہ ہونے سے باقیات ورثا کے حوالے کرنے میں شدید مشکلات ہیں، ہمارے پاس اب تک دو دکانوں سے 21 باقیات لائی گئی ہیں، ہم ابھی کنفرم نہیں کرسکتے کہ یہ 21 لاشیں ہی ہیں یا کتنے افراد کی باقیات ہوسکتی ہیں، آج صبح سے سول اسپتال میں صرف باقیات ہی لائی گئی ہیں۔

ڈاکٹر سمیعہ نے کہا کہ ڈاکٹرز کے مطابق حالیہ موصول ہونے والے انسانی اعضاء ناقابل تجزیہ حالت میں پہنچ چکے ہیں، آگ کی تپش اور ہڈیاں ٹوٹنے کی وجہ سے ہڈیوں کے اندر موجود 'میڈولری کینال' سے ڈی این اے ختم ہو چکا ہے، ایدھی اور چھیپا کے رضا کاروں سے گزارش ہے کہ وہ باقیات ملنے والے فلور اور دکان کا درست پتہ فراہم کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی 6 افراد کی شناخت چہرے سے جبکہ ایک کی شناختی کارڈ کے ذریعے کی گئی، دیگر کی شناخت میں مشکلات ہیں، متاثرین کے پیاروں کی تلاش کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ باقیات کس مخصوص جگہ یا دکان سے اٹھائی گئی ہیں، آنے والے اعضاء کا معائنہ تاحال جاری ہے۔

اس کو بھی پڑھیں: گل پلازہ آتشزدگی کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی

پولیس سرجن نے بتایا کہ جسم کے مختلف حصے ناقابلِ شناخت ہیں، بعض صورتوں میں صرف جنس (مرد یا خاتون) کا اندازہ لگانا ہی ممکن ہے۔

ادھر کراکری دکان کے مالک سلمان کا کہنا ہےکہ دکان سے ہم نے خود 14 افراد کی باقیات نکالی ہیں، ہماری دکان میزنائن فلور پر ہے، واقعے کے وقت ہمارے کزن اور ملازمین بھی تھے، دکان میں بڑی تعداد میں خواتین اور دیگر افراد بھی موجود تھے۔