ہیلپ ڈیسک سندھ حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ مزید 3 افراد لاپتا افراد کے نام فہرست میں شامل کئے ہیں۔
ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق گل پلازہ سے ملنے والی ایک اور لاش کی شناخت ہوگئی ہے، لاش کی شناخت تنویر احمد خان ولد ابولکلام کے نام سے ہوئی، تنویر احمد کورنگی نمبر چار کا رہائشی تھا، تنویر گل پلازہ میں بطور سیلز مین کام کرتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ متوفی کا نام لاپتا افراد کی فہرست میں شامل تھا، متوفی کی شناخت ملنےو الی شناختی کارڈ سے ہوئی ، لاپتا افراد کی فہرست میں اب تک سات افراد کی شناخت ہوچکی ہے۔
دوسری جانب چیف آپریٹنگ آفیسر ریسکیو 1122، ڈاکٹر عابد جلال الدین شیخ نے بتایا کہ گل پلازہ حادثہ پر ریسکیو 1122 کی جانب سے مربوط، منظم اور مکمل طور پر تکنیکی بنیادوں پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے، سرچ آپریشن کے لیے اربن سرچ اینڈ ریسکیو یونٹس بمعہ ڈیزاسٹر ریسپانس وہیکل موقع پر موجود ہیں اور کارروائی منظور شدہ اسٹرکچرل سیفٹی پروٹوکول کے تحت انجام دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ میں لگی آگ بجھ گئی، جاں بحق افراد کی تعداد 14ہوگئی
ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو 1122 کی جانب سے سرچ آپریشن جدید اور پیشہ وارانہ طریقۂ کار کے تحت انجام دیا جا رہا ہے، حادثے کے مقام پر 5 مختلف نشاندہی شدہ مقامات پر بیک وقت 3 سرچ آپریشنز جاری ہیں، جہاں ریسکیو 1122 کی 3 ٹیمیں متحرک ہیں، ایک خصوصی ٹیم مسلسل فائر فائٹنگ اور کولنگ کے عمل میں مصروف ہے تاکہ آپریشن کے دوران محفوظ ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
ڈاکٹر عابد جلال الدین شیخ نے بتایا کہ ریسکیو 1122 کی جانب سے کنٹرولڈ انداز میں ملبہ ہٹانے اور رسائی کو ممکن بنانے کے لیے بھاری وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں، اربن سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن انتہائی تکنیکی نوعیت کا ہے کیونکہ عمارت کا اسٹرکچر شدید حد تک متاثر ہوچکا ہے اور کھڑی حالت میں غیر مستحکم ہے، کسی بھی وقت انہدام کا خدشہ موجود ہے۔
سی او او ریسکیو 1122 کا کہنا تھا کہ اسٹرکچرل عدم استحکام کے باعث آپریشن مرحلہ وار، محدود اور انتہائی مہارت کے ساتھ انجام دیا جا رہا ہے تاکہ مزید خطرات سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے، بعض لاشیں مختلف مقامات سے جسم کے حصوں کی صورت میں ملی ہیں، جب تک تکنیکی اور فرانزک تصدیق کے ذریعے یہ تعین نہیں ہو جاتا کہ یہ اعضا ایک ہی فرد کے ہیں یا مختلف افراد کے، اس وقت تک درست تعداد کی تصدیق مشکل ہے۔
اس کو بھی پڑھیں: گل پلازہ آتشزدگی کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی
انہوں نے کہا کہ آگ کی شدید حرارت اور طویل دورانیے کے اثرات کے باعث متعدد لاشیں ناقابلِ شناخت حالت میں تبدیل ہو چکی ہیں جبکہ مختلف مقامات سے انسانی جسم کے اجزا بھی برآمد ہو رہے ہیں، لاشوں کی حالت انتہائی خراب ہونے کے باعث فوری شناخت ممکن نہیں، شناخت کے عمل کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ تکنیکی و قانونی طریقۂ کار کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
ڈاکٹر عابد جلال الدین شیخ نے مزید کہا کہ مشیرِ وزیرِاعلیٰ سندھ برائے بحالیات، گیان چند اسرانی کے احکامات اور ڈی جی ریسکیو 1122 (سندھ) بریگیڈیئر (ر) واجد صبغت اللہ مہر کی ہدایات پر فیلڈ میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کی براہِ راست نگرانی کر رہا ہوں۔