لاہور: ماں اور بچی گٹر کے مین ہول میں گر گئی، لاشیں برآمد
Lahore Sewer Accident
فائل فوٹو
لاہور: (ویب ڈیسک) لاہورمیں سیوریج لائن میں گرنے والی خاتون کی لاش تقریبا 3 کلو میٹر دور سے جبکہ بچی کی لاش سات کلومیٹر دور سے مل گئی ہے۔

‏بچی ردا کی نعش جائے وقوعہ سے تقریبا سات کلومیٹر اور ماں سعدیہ کی نعش تین کلومیٹر دور ملی، ریسکیو آپریشن مسلسل 18 گھنٹے جاری رہا۔

ریسکیو، سول ڈیفنس، ایدیھی، مرکزی مسلم لیگ کی ٹیمیں موقع پر موجود رہیں، پہلی نعش ملنے سے قبل تک آپریشن مخصوص ایریا میں ہوتا رہا اور یہی بات زیر بحث رہی کہ پائپ سے باڈی نہیں گزرسکتی، ماں کی نعش ملنے کے بعد آپریشن کا دائرہ کار وسیع کیا گیا۔

یاد رہے کہ متاثرہ فیملی سیر کرنے آئی تھی، مینار پاکستان کے بعد داتا دربار پہنچی تھی اس دوران خاتون اور بچی  سیورج لائن کی منڈیر پر بیٹھی رہیں جہاں سے وہ دونوں نیچے گر گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: رمضان المبارک: 45 ہزار سے کم آمدن والوں کیلئے بڑی خوشخبری

وزیر اعلی ٰ پنجاب مریم نواز ا نے واقعے کی تہہ تک پہنچنے کیلئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی بنادی، کمیٹی 24 گھنٹے میں تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرے گی۔

وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ڈائریکٹر ٹیپا شبیر حسین کو معطل کردیا گیا، غفلت اور کوتاہی کے مرتکب پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد عباس اور ڈپٹی ڈائریکٹرشبیر احمد کو بھی معطل کردیا گیا۔

 خاتون کی لاش ملنے سے قبل ریسکیو ذرائع کا کہنا تھا کہ جس سیوریج ہول میں دو افراد کے گرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے اس میں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ممکن ہی نہیں، جس مقام کی نشان دہی کی گئی ہے وہ داتا دربار کے قریب پرندہ مارکیٹ میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہفتے کی رات عمران خان کو اڈیالہ جیل سے پمز لایا گیا، عطا تارڑ کی تصدیق

ریسکیو ذرائع  کے مطابق  انتظامیہ نے اس جگہ کھدائی کر رکھی تھی، واقعے کے وقت اس علاقے میں اندھیرا تھا، ریسکیو 1122 کی اسپیشلائزڈ ٹیمیں اورغوطہ خور صرف چند منٹوں میں جائے وقوع پر پہنچ گئے۔

دوسری جانب لاہورانتظامیہ کا بھی کہناتھا سیوریج لائن کا معائنہ کیا، معلوم ہوا کہ وہاں کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔

لاپتہ خاتون کے والد نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ اس کی بیٹی کو قتل کیا گیا ہے، اس بیان کے بعد خاتون کے شوہر سمیت تین افراد کو گرفتار کیا گیا تاہم بعد ازاں انہیں رہا کردیا گیا۔