اے این رہنما جمال ناصر نے ساتھیوں سمیت رہنما مسلم لیگ ن و وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام سے ملاقات کی اور پارٹی قائد میاں نواز شریف کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ ن میں شامل ہونے کا اعلان کیا، انجینئر امیر مقام میں جمال ناصر و دیگر کی مسلم لیگ ن میں شمولیت کا خیرمقدم کیا اور انہیں مبارکباد دی۔
اس موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے ناصر جمال نے کہا کہ میں نے اے این پی میں نے 15 سال کام کیا، آج میں اپنےساتھیوں سمیت مسلم لیگ(ن) میں شمولیت اختیار کر رہا ہوں، اے این پی میں بہت اچھا وقت گزرا۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 13 سال سے خیبرپختونخوامیں بدامنی ہے، لوگ پنجاب اور خیبرپختونخوا کو دیکھتے ہیں تو صاف فرق دکھائی دیتا ہے، ہمارے علاقے کے بہت سے مسائل ہیں جو حل طلب ہیں، خیبرپختونخوا کے نوجوان بے چینی کا شکار ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست خارج
انہوں نے کہا کہ انجینئر امیرمقام کی کوششوں سے ہمارے علاقے کے لوگوں کو گیس کی سہولت میسر آئی، جو مواقع پنجاب کے نوجوانوں کو مل رہے ہیں وہ خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو بھی ملنے چاہئیں، انجینئر امیر مقام کی کوششوں سے خیبرپختونخوا میں لیپ ٹاپ سکیم کا آغاز ہوا۔
اس موقع پر انجینئر امیر مقام کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی دعوت پر محمد جمال ناصر نے پارٹی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور آج کا دن پارٹی کے لیے خوش کا دن ہے، خیبرپختونخوا کے تعلیمی اداروں میں طلبہ کے رویئےمیں مثبت تبدیلی آرہی ہے، طلبہ اور عوام میں مسلم لیگ(ن) کی قیادت پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صرف نعرے بازی کرنا سیاست نہیں، عوام کو ریلیف دینا ضروری ہے، عوام اب سیاسی نعروں کے بجائے کارکردگی کو ترجیح دے رہی ہے، خیبرپختونخوا حکومت کی ترجیحات عوامی مسائل نہیں، پشاور یونیورسٹی میں تنخواہوں اور پنشن کے مسائل ہیں۔
اس کو بھی پڑھیں: بیرسٹر گوہر کا عمران خان سے ملاقات سے انکار
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ صوبے میں تعلیمی اور سرکاری اداروں کو مالی بحران کا سامنا ہے، صوبائی حکومت عوامی مسائل کے بجائے احتجاجی سیاست میں مصروف ہے، این ایف سی ایوارڈمیں خیبرپختونخوا کو پورا اور اضافی حصہ مل رہا ہے۔
انجینئر امیر مقام نے مزید کہا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ کیلئے خیبرپختونخوا کو خصوصی فنڈز مہیا کیے جا رہےہیں، فنڈز کے شفاف استعمال پر صوبائی حکومت کو جوابدہ ہونا ہو گا، پنجاب میں مریم نواز کی کارکردگی قابل تقلید ہے، خیبرپختونخوا حکومت کو بھی عملی اقدامات اور عوامی کو ریلیف کی فراہمی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔