چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا عدالت پیش ہوئے۔
دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی عدالت سے ضمانت لیتے ہیں اور پھر اس کا غلط استعمال کرتے ہیں، وزیراعلیٰ اسلام آباد، لاہور اور کراچی جاتے ہیں پھر وہاں پر تقاریر کرتے ہیں۔
وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ عدالتی آرڈر کا غلط استعمال کرکے توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ محمد سہیل آفریدی صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ ہیں، درخواست گزاروں نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی لیکن اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط
ان کا مزید کہنا تھا کہ درخواست گزاروں نے توہین عدالت درخواست دائر کی ہے لیکن یہ متاثرہ فریق نہیں ہیں لہذا یہ درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔
بعدازاں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست خارج کر دی۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف درخواست اپوزیشن ممبران اسمبلی ثوبیہ شاہد، ارباب زرک اور محمد اقبال خان کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔