سی ایم کے پی سہیل آفریدی نے خط میں مؤقف اپنایا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے آئینی طور پر لازم وفاقی فنڈز کی عدم ادائیگی شدید مالی بحران کا باعث بن رہی ہے، وفاقی منتقلیوں میں مسلسل تاخیر صوبائی گورننس اور سروس ڈیلیوری کو متاثر کر رہی ہے۔
خط میں کہا گیا کہ صوبائی بجٹ آئینی مالی حقوق کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا، اصل ریلیز بجٹ اہداف سے کم رہی، خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن صوبہ ہے اور بھاری قومی اخراجات برداشت کر رہا ہے، انسداد دہشت گردی ، سیلاب بحالی اور عارضی بے گھر افراد کی دیکھ بھال جیسے اخراجات صوبہ غیر منصفانہ طور پر برداشت کر رہا ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ قومی ذمہ داریوں کا مالی بوجھ غیر متناسب طور پر صوبے پر ڈالا جا رہا ہے، نیٹ ہائیڈل منافع، آئل اینڈ گیس رائلٹیز اور این ایف سی منتقلیاں آئینی واجبات ہیں، معمول کی ماہانہ این ایف سی منتقلیوں کی روک تھام آئین اور کوآپریٹو فیڈرلزم کی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: احتجاج کیس، علیمہ خان کی حاضری معافی کی درخواست منظور
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ وفاقی قابل تقسیم پول سے 658 ارب روپے کے مقابلے میں صرف 604 ارب روپے موصول ہوئے، 54 ارب روپے کا شارٹ فال ہے، مالی شارٹ فال نے کیش مینجمنٹ، بجٹ عمل درآمد اور عوامی خدمات متاثر کیں، ضم اضلاع کے لیے صوبائی مختص رقم 292 ارب روپے، وفاقی ریلیز اب تک صرف 56 ارب روپے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی تاخیر نے انضمام کے مقاصد کو نقصان اور قومی یکجہتی کو کمزور کیا، ہمارا مطالبہ ہے کہ وفاقی واجبات کی فوری اور غیر مشروط ادائیگی کی جائے ورنہ تاخیر سے مالی دباؤ بڑھے گا، ضم شدہ اضلاع کے فنڈز آئینی تقاضوں کے مطابق فراہم کیے جائیں، این ایف سی، نیٹ ہائیڈل منافع، تیل و گیس رائلٹیز اور ضم اضلاع فنڈز فوری جاری کیے جائیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے خط میں معاملے کی سنگینی کے پیش نظر وزیراعظم کی فوری ذاتی توجہ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔