اپنے ایک بیان میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے 8 فروری کو احتجاج کی آڑ میں انتشار پھیلایا تو 26 نومبر سے بھی زیادہ سخت کارروائی ہو گی، کے پی کے میں عوام کو دہشت گردی، صحت اور تعلیم جیسے سنگین مسائل سامنا ہے لیکن صوبائی حکومت اپنی ذمہ داریوں سے غفلت کی مرتکب ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 26 نومبر، 9 مئی اور اس کے بعد آئی ایم ایف کو خط لکھنا، پھر مسلسل پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والا بیانیہ، چاہے وہ انڈیا کا ہو یا اسرائیل کا، یا الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ عمران خان کے ٹویٹر (ایکس) اکاؤنٹ سے ہو، یہ سب انتہائی نامناسب اور دل دکھانے والی باتیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ، ادویات تجویز
طلال چودھری کا کہنا تھا کہ ایک سیاسی جماعت کو یہ زیب نہیں دیتا اس سب کے باوجود حکومت تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے، جیل میں جتنی سہولیات عمران خان کو میسر ہیں پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کسی قیدی کو ملی ہوں، بانی پی ٹی آئی سے جیل میں جو بھی ملتا ہے، وہ کہتا ہے کہ وہ مکمل صحت مند ہیں، ورزش کر رہے ہیں، اچھا کھانا کھا رہے ہیں، ڈاکٹر 24 گھنٹے موجود ہے، خدمت گار دن رات ان کے ساتھ ہے۔
وزیر مملکت نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ واحد لوگ ہیں جو اپنے لیڈر کے لیے افواہیں پھیلاتے ہیں، کبھی کہتے ہیں وہ فوت ہو گئے، کبھی کہتے ہیں جیل میں ہیں ہی نہیں، ہر چند ماہ بعد یہ افواہیں اڑاتے ہیں جو ہمیشہ غلط ثابت ہوتی ہیں۔
اس کو بھی پڑھیں: عمران خان رہا ہونگے، آزادی کا سورج جلد طلوع ہو گا، سہیل آفریدی
ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں جو کارروائیاں ہو رہی ہیں وہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہیں، نیشنل ایکشن پلان پہلی بار نواز شریف اور دوسری مرتبہ عمران خان کے دور میں بنا اور تمام صوبے اور سیاسی جماعتیں اس پر متفق تھیں، آج جو کارروائیاں ہو رہی ہیں وہ نیشنل ایکشن پلان کا ہی تسلسل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران ہمارا برادر اسلامی ملک ہے، ہم خطے میں امن کے خواہاں ہیں اور چاہتے مسائل کا حل بات چیت سے نکالا جائے ، تقریباً 14 لاکھ افغان باشندوں کو مختلف مراحل میں واپس افغانستان بھجوایا جا چکا ہے جبکہ 15 لاکھ اب بھی پاکستان میں مقیم ہیں۔