لاہور کی مقامی عدالت میں چودھری پرویز الہٰی و دیگر کے خلاف ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن ریفرنس پر سماعت ہوئی، عدالت نے شریک ملزمان سلیمان احمد اور مظفر اقبال کو ریفرنس کی کاپیاں تقسیم کردیں۔
عدالت نے پرویز الہٰی سمیت دیگر کو فرد جرم کے لیے 15 جنوری کو طلب کرلیا جبکہ مونس الہٰی کے اثاثے ضبط کرنے اور نیلام کرنے کے خلاف درخواست پر دلائل طلب کر لیے کر لیے۔
یہ بھی پڑھیں: علیمہ کیخلاف 26 نومبراحتجاج کیس، روزانہ سماعت کا حکم
واضح رہے کہ رہنما پاکستان تحریک انصاف و سابق وفاقی وزیر مونس نے الہٰی اپنی والدہ قیصرہ الہٰی کی وساطت سے اثاثوں کی نیلامی روکنے کے لئے درخواست دائر کر رکھی ہے، چودھری مونس الہٰی نے اپنی والدہ کو مختار نامہ دے رکھا ہے۔
خیال رہے کہ منصوبوں میں مبینہ کرپشن کے ریفرنس میں چودھری پرویزالہٰی سمیت دیگر ملزمان میں محمد خان بھٹی ،خالد محمود ،سہیل اصغر اعوان ، آصف محمود و دیگر شامل ہیں۔
اس کو بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی گرفتاری کا حکم
چودھری پرویز الہٰی و دیگر پر الزام ہے کہ انہوں نے لاہور ماسٹر پلان منصوبے میں مالی فوائد کے لیے جعل سازی کی اور لاہور ماسٹر پلان میں ردوبدل کرکے اپنی زمینیں لاہور میں شامل کرنے کی کوشش کی، ماسٹر پلان میں تبدیلی کے لیے کنسلٹنٹ فرم کی جعلی مہریں اور مونوگرام استعمال ہوا۔
اینٹی کرپشن حکام کے مطابق پرویز الہٰی و دیگر نے زرعی زمین کو کمرشل اور رہائشی میں تبدیل کرکے اربوں روپے کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، سابق وزیر اعلٰی پنجاب چودھری پرویز الہٰی نے مالی مفاد کے لیے عہدے اور دفتر کا ناجائز استعمال کیا۔