یہ پیش رفت ریاستی اداروں پر مبینہ طور پر گمراہ کن الزامات عائد کرنے کے کیس میں سامنے آئی ہے، جس کی سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ہوئی۔
کیس کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے کی، عدالتی کارروائی کے دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا عدالت میں پیش نہیں ہوئے، جس پر عدالت نے ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو حکم دیا کہ انہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔
ذہن نشین رہے کہ سہیل آفریدی کیخلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) مدعی ہے۔
مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ نے ریاستی اداروں سے متعلق سوشل میڈیا یا دیگر ذرائع سے گمراہ کن بیانات دیے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 17 جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سال 2026 ہونڈا CG 125 کی نئی قیمت اور فیچرز کا اعلان
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمات میں عدالتیں سخت مؤقف اختیار کرتی ہیں، خاص طور پر جب معاملہ ریاستی اداروں سے متعلق ہو، اسی تناظر میں عدالت کا یہ اقدام اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی حلقوں میں اس عدالتی فیصلے پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں، بعض مبصرین اسے قانون کی بالادستی کی مثال قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ معاملے کے تمام قانونی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔