انٹیلی جنس ایجنسی کا کارنامہ، کراچی میں دہشتگردی کا منصوبہ ناکام
counter terrorism operation
فائل فوٹو
کراچی: (ویب ڈیسک) انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی میں دہشت گردی کے ایک انتہائی خطرناک منصوبے کو ناکام بنا دیا۔

پریمیئر انٹیلی جنس ایجنسی کی مصدقہ معلومات پر بروقت اور فیصلہ کن کارروائی کے دوران دو ہزار کلوگرام سے زائد انتہائی تباہ کن بارودی مواد برآمد کیا گیا جس سے شہر میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا خدشہ ٹل گیا۔

ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کیپٹن (ر) غلام اظفر مہیسر نے ایک اہم پریس کانفرنس میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کئی دنوں اور راتوں کی مسلسل محنت کے بعد پہلے ایک دہشت گرد کو گرفتار کیا گیا جس سے تفتیش کے دوران مزید اہم معلومات حاصل ہوئیں، ان معلومات کی بنیاد پر گزشتہ رات مزید دو دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

گرفتار دہشت گردوں کی شناخت جلیل احمد عرف فرید ولد محمد نور، نیاز قادر عرف کنگ ولد قادر بخش اور حمدان عرف فرید ولد محمد علی کے نام سے ہوئی ہے۔

حکام کے مطابق اداروں کی مسلسل نگرانی اور غیر معمولی چوکنا پن کے باعث دہشت گردی کا یہ منصوبہ بے نقاب ہوا، برآمد شدہ دھماکہ خیز مواد کو شہر سے باہر حب کے علاقے میں انتہائی محفوظ طریقے سے ناکارہ بنا دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جے یو آئی (ف) کا اسلام آباد میں بڑے احتجاجی مظاہرے کا عندیہ

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دہشت گرد کراچی میں سویلین اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور انہوں نے شہر سے 35 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک مکان کرائے پر لے رکھا تھا۔

آپریشن کے دوران عوام میں خوف و ہراس پھیلنے سے بچانے کے لیے غیر معمولی احتیاط برتی گئی اور بوبی ٹریپس سمیت ممکنہ خطرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔

کارروائی کے دوران 30 سے زائد پلاسٹک ڈرمز میں موجود بارودی مواد اور پانچ دھاتی گیس سلنڈرز برآمد کیے گئے، ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ دھماکہ خیز مواد افغانستان سے اندرونِ بلوچستان کے راستے کراچی منتقل کیا گیا تھا جبکہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورک ہمسایہ ممالک سے آپریٹ کیا جا رہا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ انڈین مفادات کے تحت کام کرنے والے دہشت گرد گروہ اس منصوبے کے پیچھے تھے جبکہ بھارتی پراکسی تنظیمیں بی ایل اے اور بی ایل ایف افغانستان میں محفوظ ٹھکانے استعمال کرتی ہیں۔

شواہد کے مطابق اس نیٹ ورک کے روابط بشیر زیب، بی ایل اے، فتنۃ الہندوستان اور مجید بریگیڈ سے بھی جڑتے ہیں۔

پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ یوریا پر مبنی دھماکہ خیز مواد دہشت گردی میں استعمال کیا جاتا ہے اور اس کی سپلائی چین توڑنا سیکیورٹی اداروں کی اولین ترجیح ہے۔

یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں دفعہ 144 کے نفاذ میں مزید توسیع

حکام نے اس امر پر بھی زور دیا کہ مقامی سہولت کار معمولی مالی مفادات کے عوض دہشت گردوں کی مدد کرتے ہیں اور دہشت گرد رہائشی گھروں کو چھپنے اور بارودی مواد تیار کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اداروں نے گھروں کی کرایہ داری کے نظام پر سخت نگرانی، مؤثر جانچ پڑتال اور یوریا سمیت دیگر کیمیکلز کے غیر قانونی استعمال کے خلاف قوانین کے سخت نفاذ پر زور دیا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیاں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں جبکہ دہشت گرد منصوبے میں ملوث تمام عناصر کا تعاقب جاری ہے، حکام کے مطابق اس حوالے سے مزید تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔

 

کرنسی، دھاتوں اور پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ
Currency → PKR
Currency Pair Rate (PKR) Change
🇺🇸 US Dollar USD → PKR 277.79 ▼ 0.43
🇪🇺 Euro EUR → PKR 316.99 ▼ 0.34
🇬🇧 British Pound GBP → PKR 371.48 ▼ 0.98
🇸🇦 Saudi Riyal SAR → PKR 73.83 ▼ 0.24
🇦🇪 UAE Dirham AED → PKR 75.64 ▼ 0.12
🇨🇳 Chinese Yuan CNY → PKR 41.06 ▼ 0.06
Current Metals
Metal Unit Price (PKR) Change
Gold 24K Per Tola 417,938
Gold 22K Per Tola 383,110
Gold 21K Per Tola 365,696
Gold 18K Per Tola 313,454
Silver Per Tola 5,876
Platinum Per oz (USD) 1,596 ▲ 2.5%
Current Petrol
Fuel Type Unit Price (PKR) Change
Petrol Super Per Litre 320.73
Diesel HSD Per Litre 199.98
High Octane Per Litre 445.00
Kerosene Per Litre 233.71
LPG Per Kg 241.43
ضرور پڑھیں