جے یو آئی (ف) کا اسلام آباد میں بڑے احتجاجی مظاہرے کا عندیہ
جمعیت علمائے اسلام (ف) نے مساجد و مدارس کی حکومتی پالیسیوں کے خلاف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بڑے احتجاجی مظاہرے کا عندیہ دے دیا۔
فائل فوٹو
اسلام آباد: (سنو نیوز) جمعیت علمائے اسلام (ف) نے مساجد و مدارس کی حکومتی پالیسیوں کے خلاف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بڑے احتجاجی مظاہرے کا عندیہ دے دیا۔

ترجمان جے یو آئی اسلام آباد کے مطابق سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان سے راولپنڈی اسلام آباد کے جید علمائے کرام کے وفد نے ملاقات کی ، وفد کی قیادت امیر جے یو آئی اسلام آباد مفتی اویس عزیز نے کی۔

اجلاس میں صوبائی رہنما جے یو آئی پنجاب مولانا سعید الرحمان سرور، مفتی عبد الرحمان، ڈاکٹر عتیق الرحمان، ڈاکٹر ضیاء الرحمان، مولانا نذیر احمد فاروقی، مولانا عبد الغفار، مفتی عبدالسلام، مفتی امیر زیب، ارشد عباسی، مفتی عبد اللہ، مفتی مسرت اقبال، قاری اسرار اللہ، مولانا عبدالکریم، مولانا عبدالقدوس محمدی اور مولانا احمد الرحمان شریک تھے۔

جے یو آئی ترجمان نے بتایا کہ اجلاس میں راولپنڈی اسلام آباد میں مساجد اور مدارس کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا گیا،مولانا فضل الرحمان نے پارٹی علماء کے وفد کو مدارس اور مساجد کے تحفظ کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

یہ بھی پڑھیں: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سنیئر رہنما انتقال کر گئے

علماء وفد سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مساجد اور مدارس کے تحفظ پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، بیرونی دباؤ پر حکومت کی مدارس و مساجد کے خلاف کسی بھی قسم کی سازش کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ دینی مدارس کے خلاف یہ رویہ ان کا اپنا نہیں بلکہ بیرونی ایجنڈا ہے کہ مذہبی نوجوانوں کو مشتعل کر کے ریاست سے لڑایا جائے، مدارس کے کردار کو محدود کرنے کی کوشش دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ کچھ قوتیں ملک میں ایسے ماہرینِ شریعت نہیں دیکھنا چاہتیں جو شریعت کے مطابق قانون سازی کر سکیں۔

اس کو بھی پڑھیں: انصاف فاؤنڈیشن کے سینکڑوں کارکن جے یو آئی (ف) میں شامل

سربراہ جے یو آئی نے مزید کہا کہ دینی مدارس کے خلاف بیوروکریسی کا رویہ دراصل بیرونی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو ریاست کے خلاف بھڑکانا ہے۔

ترجمان جے یو آئی اسلام آباد نے بتایا کہ اجلاس میں حکومتی بدنیتی کے باعث مدارس رجسٹریشن کی تاخیر پر اسلام آباد میں بڑے احتجاجی مظاہرے پر غور وفکر کیا گیا جبکہ مدنی مسجد کی تعمیر نو کے بعد کی صورتحال پر بھی غور و خوض کیا گیا۔