سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر جاری ایک پیغام میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے دورہ سندھ کی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ "9 جنوری بروز" کراچی، سندھ تیار ہو؟
ان کا مزید کہنا تھا کہ 9 جنوری کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کا پیغام لے کر ہم کراچی آرہے ہیں، تمام پارٹی کے دوستوں اور کارکنان سے جمعہ کے دن ملاقات ہو گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی تین روزہ دورے پر لاہور بھی آئے تھے جہاں انہوں نے پارٹی رہنماؤں، کارکنان اور صحافیوں سے ملاقاتیں کی تھیں، دورہ لاہور سے واپسی کے بعد سہیل آفریدی نے کراچی کا دورہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کا دورہ لاہور، اسپیکر کے پی کا سپیکر پنجاب اسمبلی کو خط
خیال رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے دورہ لاہور کے دوران بدنظمی کے واقعات بھی سامنے آئے تھے جس کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پنجاب کے دورے کے دوران ناروا سلوک پر وزیراعلیٰ مریم نواز کو سخت خط لکھا تھا۔
۹ جنوری بروز جمعہ!!!
— Sohail Afridi (@SohailAfridiISF) January 1, 2026
کراچی، سندھ تیار ہو؟
انشاءاللہ عمران خان صاحب کا پیغام لے کر ہم آرہے ہیں۔ تمام پارٹی کے دوستوں سے جمعہ کے دن ملاقات ہوگی۔ انشاءاللہ
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے لکھا کہ پنجاب کے دورے کے دوران پروٹوکول کی سنگین خلاف ورزی اور تضحیک آمیز رویہ اختیار کیا گیا، پنجاب حکومت کا طرزِ عمل آئینی عہدے کے وقار اور بین الصوبائی احترام کے منافی ہے، میرے دورےکے لیے غیر ضروری سکیورٹی اقدامات اور ہراساں کرنے کا ماحول بنایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے دورے کے دوران بازار بند، عوامی مقامات سیل اور موٹروے ریسٹ ایریاز تک رسائی روکی گئی، عوامی نقل و حرکت محدود کر کے شہریوں کو شدید مشکلات میں ڈالا گیا، پنجاب میں وزیراعلیٰ کے دورے کے دوران خوف اور دھمکی کا تاثر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا دورہ لاہور، سکیورٹی پلان جاری
سہیل آفریدی نے خط میں لکھا کہ دورے کے ساتھ سوشل میڈیا منظم انداز میں کردار کشی مہم چلائی گئی، ریاست سے منسلک ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کردار کشی ناقابل قبول ہے، وزیراعلیٰ پر منشیات سے متعلق سنگین اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے ، بغیر ثبوت الزامات آئینی عہدے کی تذلیل کے مترادف ہیں۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پروٹوکول کی توہین، پولیس نمائش اور ڈیجیٹل کردار کشی ایک منظم منصوبہ لگتا ہے، یہ طرزِ عمل وفاقی ہم آہنگی اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے، پنجاب حکومت انتظامی و ڈیجیٹل سطح پر ایسے رویے کو معمول نہ بننے دے۔