ڈاکٹر یاسمین راشد کے وکیل کے مطابق الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ درخواست دے دی گئی ہے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ جیسے ہی فیصلے کی مصدقہ نقل موصول ہوگی، فوری طور پر متعلقہ عدالت میں پٹیشن دائر کر دی جائے گی۔ قانونی ٹیم کا مؤقف ہے کہ الیکشن ٹریبونل نے کیس کے حقائق کا درست اور مکمل جائزہ نہیں لیا اور تکنیکی بنیادوں پر الیکشن پٹیشن مسترد کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: شفیع جان نے عظمیٰ بخاری سے متعلق بیان پر معافی مانگ لی
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد نے جیل میں ہونے والی مشاورت کے دوران اس بات پر زور دیا کہ این اے 130 کے انتخابی نتائج سے متعلق اہم قانونی اور آئینی نکات کو نظر انداز کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ عوامی مینڈیٹ اور شفاف انتخابی عمل کے تحفظ کے لیے قانونی راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہے۔ پی ٹی آئی قیادت بھی اس فیصلے کو سیاسی اور قانونی طور پر اہم قرار دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا کا فیصلہ چیلنج کردیا
واضح رہے کہ لاہور کے الیکشن ٹریبونل نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے خلاف دائر کی گئی الیکشن پٹیشن کو ناقابلِ سماعت قرار دیا تھا۔ ٹریبونل کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ درخواست تکنیکی تقاضے پورے نہ کرنے کے باعث قابلِ سماعت نہیں، جس پر پی ٹی آئی کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پارٹی آئینی اور قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے مؤقف کا دفاع جاری رکھے گی۔ ان کا مؤقف ہے کہ شفاف انتخابات اور عوامی رائے کا احترام جمہوریت کی بنیاد ہے، اور اسی اصول کے تحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے عدالتی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔